زرعی پیداوار بڑھانے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور چھوٹے و معمولی کسانوں کی مدد کے لیے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر زور
سری نگر: جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز زراعت اور باغبانی کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز، جن میں موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی کمی اور پائیداری شامل ہیں، سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہانت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے پر زور دیا۔
زرعی یونیورسٹی کشمیر کے شالیمار کنونشن سینٹر میں ’’جن۔زی فارمنگ کے لیے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ وہ اس بات پر زور دینا چاہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہانت کو مل کر کام کرنا چاہیے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ایسی جدت طرازی کی ضرورت پر زور دیا جو کسانوں اور پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔انہوں نے کہا کہ زراعت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ، ماضی کے طریقہ کار اور آلات سے نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کم وسائل استعمال کرتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی اپنانا ضروری ہے۔
منوج سنہا نے کہا، ’’محدود وسائل کے ساتھ ہم زیادہ پیداوار حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور زراعت و باغبانی کو کس طرح پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سمپوزیم مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے عملی حل تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر زراعت کے مستقبل پر غور و خوض کے لیے ایک موزوں مقام ہے، کیونکہ اس خطے میں زراعت کی بھرپور روایات موجود ہیں اور یہاں کے کسان نسلوں سے مختلف چیلنجز کا سامنا کرتے آئے ہیں۔
انہوں نے زراعت میں خواتین کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی قیادت میں ہونے والی انجینئرنگ کی جدت طرازی محض مباحثوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے عملی حل کی شکل اختیار کرنی چاہیے۔
افرادی قوت سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں کی ایک بڑی تعداد میں خواتین زراعت سے وابستہ ہیں، جبکہ بہت سی خواتین مناسب معاوضے کے بغیر بھی اس شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مزید زور دیا کہ سمارٹ فارمنگ، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں ہونے والی جدت طرازی جامع ہونی چاہیے اور اس کا مرکز چھوٹے اور معمولی کسانوں کے ساتھ ساتھ زراعت سے وابستہ خواتین کی ضروریات ہونی چاہئیں۔
(کے این او)




