منگل, ستمبر 29, 2026
12.8 C
Srinagar

پورے دن کی کارروائی کا احوال:تلخ کلامی ،گرم گفتاری ،ہنگامہمہ آرائی، نعرہ بازی ،دھینگا مشتی ،4ممبران ایوان بدر

شوکت ساحل

سرینگر جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے خزاں اجلاس کی پانچویں نشست کا آغاز بھی گزشتہ پیوستہ جیسی صورتحال کے بیچ ہوا۔ ٹھیک دس بجے جوں ہی اسمبلی اسپیکر عبد الرحیم راتھر کی صدارت میں ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور اسپیکر پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ارکان نے آپ کے خلاف (اسپیکر) عدم اعتماد کی تحریک اس ایوان میں جمع کرا دی ہے، لہٰذا آپ ایوان کی کارروائی کی صدارت نہیں کر سکتے۔آر ایس پٹھانیہ نے پارلیمنٹ میں اسی نوعیت کی عدم اعتماد کی تحریکوں کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ہمارے سامنے متعدد مثالیں موجود ہیں، جب پارلیمنٹ کے اسپیکروں نے کارروائی کی صدارت نہیں کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسپیکر نے ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد میں خصوصی حیثیت کا حوالہ دینے کی اجازت دی، جبکہ قرارداد پیش کرنے کا طریقہ ایوان کے قواعد کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ پٹھانیہ نے اسپیکر سے راست مخاطب ہو کر کہا: ’آپ کرسی پر نہیں بیٹھ سکتے۔‘اسپیکر نے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ قواعدِ ضابط کار اور فہرستِ کار کے تحت عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی اجازت کے معاملے کو نوٹس موصول ہونے کے14 دن بعد ہی زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔ اسپیکر نے کہا: ’آپ تحریک لا سکتے ہیں۔ میں نے اسے نہیں دیکھا۔ فرض کر لیتے ہیں کہ یہ جمع کرائی گئی ہے۔ ہمارے وضع کردہ قواعد واضح ہیں کہ ایسی تحریکوں سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔‘
انہوں نے ایوان کے قواعد کی متعدد دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: ’آپ قواعد کو صحیح طرح نہیں پڑھتے۔‘ اسپیکر کی جانب سے طریقہ کار کی وضاحت کے دوران بی جے پی ارکانِ اسمبلی نے احتجاج شروع کر دیا۔ انہوں نے نعرے لگائے: ’اسپیکر صاحب، کرسی چھوڑو، اسپیکر صاحب، کرسی چھوڑو۔‘ بی جے پی کے احتجاج کے سبب وقفہ سوالات کی کارروائی متاثر ہوئی۔ایوان میں زبردست ہنگامے کے بیچ اسپیکر نے قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما کو اظہارِ خیال کرنے کا موقع دیا۔ انہوں نے ایوان میں ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی بی جے پی کے ایجنڈے کا حصہ ہے، تاہم انہوں نے 1953 سے قبل کی حیثیت پر کسی بھی بحث کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی قرارداد پر ایوان میں بحث کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایجنڈے اور سازش کو تقویت دینے کے لیے جموں و کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
سنیل کمار شرما نے کہا: ’حکومتِ ہند نے 1953 سے قبل کی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ا±س وقت مسترد کر دیا تھا، جب عمر عبداللہ مرکزی وزیر تھے۔‘ اس موقع پر جب نائب وزیرِ اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے قائدِ حزبِ اختلاف شرما کو جواب دینا شروع کیا تو ایوان کی سب سے بڑی حزبِ اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے جملہ ارکان، قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما کی قیادت میں نعرے بازی کرتے ہوئے چاہِ ایوان میں داخل ہو گئے۔
شور و غل کے بیچ ممبر اسمبلی بنی رمیشور سنگھ، ممبر اسمبلی مہر علی، ممبر اسمبلی بانڈی پورہ نظام الدین بٹ، ممبر اسمبلی عید گاہ مبارک گل اور ممبر اسمبلی زڈی بل تنویر صادق نے اپنے حلقوں اور عوامی مسائل کے حوالے سے ایوان کے سامنے اپنے سوالات رکھے، جبکہ بی جے پی کے ارکان نے احتجاج کے سبب وقفہ سوالات کی کارروائی سے کنارہ کشی اختیار کی۔ متعدد ممبرانِ اسمبلی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات ایوان میں موجود وزرا نے دیے، جن میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ اور سریندر کمار چودھری بھی شامل تھے۔شدید ہنگامے کے بیچ ایک سوال کے جواب میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اچھن سعیدہ پورہ عید گاہ کے لیے 361 کروڑ روپے کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبہ ’ٹینڈرنگ‘ کے مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت روزانہ800 ٹن کچرے کو ’پراسیس‘ کیا جائے گا، جبکہ تعمیراتی کام کی مدت24 ماہ مقرر کی گئی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں جب وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے تو ایوان میں بی جے پی کے ارکان نے احتجاج میں شدت پیدا کر دی، جس دوران حکمران اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے ارکان کے درمیان زبردست نوک جھونک، گرما گرمی اور تلخ کلامی ہوئی، جبکہ دونوں جماعتوں کے ارکان آمنے سامنے آ گئے اور بی جے پی کے ارکان نے چاہِ ایوان میں دھرنے پر بیٹھ کر علامتی متوازی اسمبلی چلانے کی کوشش کی۔
اس دوران کانگریس کے رکنِ اسمبلی اور احتجاجی بی جے پی ارکان متعدد مرتبہ آمنے سامنے آگئے، جس دوران کانگریس ارکان نے بھارتی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کو لے کر احتجاج شروع کر دیا۔ انہوں نے اس حوالے سے دوبارہ ایوان میں ا±ن بینروں کی نمائش کی، جن پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کے چیف کمشنر کے خلاف نعرے درج تھے۔ ٹھیک گیارہ بجے اسپیکر نے وقفہ سوالات کی کارروائی ختم کی۔بی جے پی کے ارکان کے جاری احتجاج کے بیچ وقفہ سوالات کے فوراً بعد اسپیکر نے توجہ دلاو¿ تحریک پر کارروائی شروع کی، جس دوران نذیر احمد خان، پیرزادہ فاروق احمد شاہ اور ڈاکٹر سجاد شفیع نے فوری نوعیت کے عوامی مسائل کو ا±بھارا، جبکہ حکومت نے ان فوری نوعیت کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔11 بج کر20 منٹ پر ایوان میں جاری شدید ہنگامہ آرائی کی صورتحال کے بیچ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے متعدد بلیں ایوان میں پیش کیں، جن میں جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں موجودہ ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں اور سابق ارکانِ اسمبلی کی پنشن سے متعلق دو بل شامل ہیں۔ ان دونوں بلوں میں جموں و کشمیر ریاستی قانون سازیہ کے ارکان کی تنخواہوں اور الاو¿نسز سے متعلق ایکٹ، 1960، اور جموں و کشمیر ریاستی قانون سازیہ کے ارکان کی پنشن ایکٹ،1984، میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ دونوں بل منظوری کے لیے ایوان میں زیرِ غور ہیں۔اس کے فوراً بعد25 ستمبر کو وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ایوان میں مکمل ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق پیش کی گئی قرارداد پر بحث شروع ہوئی۔ سب سے پہلے حکمران جماعت کے رکنِ اسمبلی نے قرارداد کے حق میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان قرارداد کے ذریعے حکومتِ ہند سے آئینِ ہند کے تحت اپنا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ یہ قرارداد مرکزی حکومت کے وعدے کی یاد دہانی ہے۔قرارداد کی حمایت میں جب کانگریس کے رکنِ اسمبلی نظام الدین بٹ اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے تو ایوان میں کانگریس اور بی جے پی ارکان کے درمیان نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ بی جے پی کے رکنِ اسمبلی وکرم رندھاوا اور اروند گپتا کے علاوہ کانگریس کے ارکانِ اسمبلی عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد کو ایوان میں جاری ہنگامہ آرائی کے دوران ایوان کی سیکیورٹی پر مامور مارشلوں نے ایوان سے بدر کر دیا۔اس موقع پر اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے احتجاج کرنے والے ارکان کو سخت کارروائی کا انتباہ دیتے ہوئے تمام ارکانِ اسمبلی کو ایوان میں نظم و ضبط اور وقار برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔مسلسل نعرے بازی اور احتجاج کے دوران اسپیکر نے خبردار کیا: ’نظم و ضبط برقرار رکھیں، ورنہ سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘قرارداد پر جاری بحث کے دوران ایوان کی کارروائی میں بار بار خلل پڑتا رہا، جبکہ 12 بج کر4منٹ سے 12 بج کر30 منٹ تک چیئرمین مبارک گل کی صدارت میں کارروائی جاری رہی۔قرارداد کے حق میں نذیر احمد خان گریزی، مظفر احمد خان، تنویر صادق، معراج ملک، سجاد غنی لون، شیخ خورشید، شمیمہ فردوس، شبیر احمد کلے، اعجاز احمد، آغا سید منتظر مہدی، الطاف احمد وانی، ہلال اکبر لون، عرفان حفیظ، چودھری اکرم کے علاوہ سینئر ترین ارکانِ اسمبلی، جن میں محمد یوسف تاریگامی، غلام احمد میر اور سیف اللہ میر قابلِ ذکر ہیں، نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔حکمران جماعت اور اتحادی جماعتوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے متعدد ارکان نے قرارداد پر اپنی ترامیم بھی ایوان میں جمع کرائیں، جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا۔قرارداد پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت سے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کے حوالے سے ’ٹائم لائن‘ واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’جتنی جلد ممکن ہو‘ سے آخر کیا مراد ہے اور نئی دہلی یہ واضح کرے کہ مرکز ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے ’مناسب وقت‘ کسے سمجھتا ہے۔
اپنے خطاب میں عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی کو سکیورٹی صورتحال یا ملی ٹینسی سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی شرط کا مطلب یہ ہوگا کہ فیصلہ مو¿ثر طور پر پاکستان کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔عمر عبداللہ نے کہا: ’میں ہر ممکن فورم پر مرکز سے پوچھتا ہوں، ہمیں بتائیں کہ ریاستی حیثیت کا مطالبہ کرنے کا مناسب وقت کیا ہے؟‘انہوں نے کہا کہ اگر مرکز کا موقف یہ ہے کہ ملی ٹینسی کے خاتمے تک ریاستی حیثیت بحال نہیں کی جا سکتی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر نئی دہلی کے ہاتھ میں نہیں رہا۔انہوں نے کہا: ’اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ ملی ٹینسی ختم ہونے تک ریاستی حیثیت بحال نہیں ہوگی، تو آپ دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کا فیصلہ نئی دہلی میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں ہوگا۔‘پاکستان کے ملی ٹینسی میں کردار اور پہلگام، اوڑی اور پلوامہ جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ کیا ریاستی حیثیت کی بحالی کو مو¿ثر طور پر پاکستان کی جانب سے تشدد ختم کرنے سے مشروط کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’کیا آپ یہ فیصلہ پاکستان پر چھوڑ رہے ہیں؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ بندوق چلانا بند کریں گے اور پھر آپ ہمیں ریاست دیں گے۔‘
عمر عبداللہ نے کہا: ’ایوان نے خصوصی حیثیت پر ایک بار نہیں بلکہ دو مرتبہ قرارداد منظور کی ہے۔ ایک2000 میں فاروق عبداللہ کے دور میں منظور ہوئی تھی۔‘وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے حیرت انگیز الفاظ میں کہا کہ اس قرارداد کی لاءسیکریٹری اور چیف سیکریٹری نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، لہٰذا اس پر ایوان میں بحث نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ قانون کا قلمدان ہونے کے باوجود میں ساری تفصیل سے لاعلم ہوں۔انہوں نے مزید کہا: ’وزیرِ قانون اور وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے مجھے معلوم نہیں، لیکن آپ کو لاءسیکریٹری اور چیف سیکریٹری کی جانب سے خط موصول ہوگئے، یہ مرکز کے زیرِ انتظام خطہ ہونے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔‘بی جے پی کے احتجاج کے بیچ ایک بج کر 40 منٹ پر ایوان کی کارروائی میں آدھے گھنٹے کی توسیع کی گئی، جس دوران ایوان نے صوتی ووٹنگ کے ذریعے اس قرارداد کو منظور کیا، جبکہ اس موقع پر بی جے پی کے جملہ ارکان نے واک آو¿ٹ کیا۔قرارداد کی منظوری کے ساتھ ہی ایک بج کر50 منٹ پر اسپیکر نے منگل کی صبح دس بجے تک کارروائی ملتوی کر دی۔

 

Popular Categories

spot_imgspot_img