منگل, ستمبر 29, 2026
12.8 C
Srinagar

قانون ساز اسمبلی کا خزاں اجلاس : مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور

فیصلہ نئی دہلی نے کرنا ہے یا اسلام آباد کو؟ عمر عبداللہ کا مرکز سے سوال
شوکت ساحل

سری نگرجموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے جاری خزاں اجلاس کی پانچویں نشست کے دوران جموں وکشمیر کو مکمل ریاستی درجہ دینے سے متعلق قرارداد صوتی ووٹنگ کے ذریعے منظور کی ۔قرارداد پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کے معاملے پر مرکز سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ”جلد از جلد“ کا آخر کیا مطلب ہے اور نئی دہلی یہ واضح کرے کہ وہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے فیصلے کے لیے ”مناسب وقت“ کسے سمجھتا ہے۔ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد پر قانون ساز اسمبلی میں بحث کے دوران عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی کو سکیورٹی کی صورتحال یا عسکریت پسندی سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی شرط عائد کرنے کا مطلب عملاً یہ ہوگا کہ فیصلہ پاکستان کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔عمر عبداللہ نے کہا، ”میں مرکز سے ہر ممکن فورم پر پوچھتا ہوں: ہمیں بتائیں کہ ریاستی حیثیت کا مطالبہ کرنے کا مناسب وقت کیا ہے؟“انہوں نے کہا کہ اگر مرکز کا موقف یہ ہے کہ عسکریت پسندی کے خاتمے تک ریاستی حیثیت بحال نہیں کی جا سکتی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فیصلہ مکمل طور پر نئی دہلی کے ہاتھ میں نہیں رہے گا۔


انہوں نے کہا، ”اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ جب تک ملی ٹینسی ختم نہیں ہوگی، ریاستی حیثیت بحال نہیں ہوگی، تو آپ عملاً یہ کہہ رہے ہیں کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کا فیصلہ نئی دہلی میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں ہوگا۔“پاکستان کے ملٹی ٹینسی میں کردار اور پہلگام ،اوڑی و پلوامہ جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ کیا ریاستی حیثیت کی بحالی کو مو¿ثر طور پر پاکستان کی جانب سے تشدد ختم کرنے سے مشروط کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ”کیا آپ یہ فیصلہ پاکستان کے حوالے کر رہے ہیں؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ بندوق چلانا بند کریں گے اور پھر آپ ہمیں ریاست دیں گے۔“عمر عبد اللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا فیصلہ نئی دہلی کے ہاتھ میں ہے، اور انہوں نے مرکز کے وعدے کے ساتھ شرائط جوڑنے کی منطق پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا، ”اگر آپ نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے کہ آپ کے وزیراعظم اپنی مدتِ کار کے دوران ہمیں ریاستی حیثیت نہیں دیں گے تو یہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔“
’ہم نے جان بوجھ کر 370 اور35(اے) کو قرارداد سے باہر رکھا‘
عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کے الفاظ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسے غور و فکر کے بعد اس طرح تیار کیا گیا ہے تاکہ اس میں کوئی ایسی بات شامل نہ ہو جسے اسمبلی کی کارروائی میں خلل ڈالنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے جان بوجھ کر آرٹیکل 370، آرٹیکل 35(اے) اور خصوصی حیثیت کے معاملے کو قرارداد سے باہر رکھا ہے۔انہوں نے کہا، ”قرارداد پڑھیں اور مجھے بتائیں کہ ہم کہاں370،35(اے) یا خصوصی حیثیت پر ووٹنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔“عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے بعض ساتھیوں نے ایسی ترامیم پیش کیں جن کے ذریعے ان مسائل کو قرارداد میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، جو ان کے مطابق کارروائی میں خلل ڈالنے کا موقع فراہم کر سکتی تھیں۔
انہوں نے کہا، ”میرے ساتھی اس جال میں پھنس گئے ہیں۔ جب وہ اس میں370 اور35(اے) شامل کرتے ہیں تو وہ انہیں ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔“انہوں نے نشاندہی کی کہ اسمبلی اس سے قبل بھی خصوصی حیثیت سے متعلق قراردادیں منظور کر چکی ہے، جن میں ایک قرارداد2000 میں فاروق عبداللہ کی حکومت کے دوران منظور کی گئی تھی۔انہوں نے کہا، ”ایوان نے خصوصی حیثیت کے بارے میں ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ قرارداد منظور کی ہے۔ ان میں سے ایک 2000 میںڈاکٹر فاروق عبداللہ کے دور میں منظور ہوئی تھی۔“عمر نے کہا کہ موجودہ مطالبہ بالکل واضح ہے،جموں و کشمیر کو وہ آئینی اور سیاسی حیثیت واپس دی جائے جو تنظیمِ نو سے قبل اسے حاصل تھی۔انہوں نے کہا، ”ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمیں وہی حیثیت واپس دیں جو ہمارے پاس تھی اور جو دوسروں کے پاس نہیں تھی۔ ہم مرکز سے صرف یہی مطالبہ کر رہے ہیں۔“
’ریاستی حیثیت عوام کی ہے، سیاسی جماعتوں کی نہیں‘
وزیراعلیٰ نے اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرنے سے سیاسی جماعتیں کمزور ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ کسی فرد یا سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کا ہے۔انہوں نے کہا، ”ایسا نہیں ہے کہ ریاست میری، میرے خاندان یا کسی سیاسی جماعت کی ہے۔ یہ عوام کی ہے۔“عمر عبداللہ نے کہا کہ مکمل ریاستی حیثیت نہ ہونے سے منتخب حکومت کے کام کاج اور روزمرہ انتظامیہ پر اثر پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا، ”ہر روز کسی نہ کسی مقام پر اس کا اثر پڑے گا کیونکہ ہمارے پاس ریاستی حیثیت نہیں ہے۔“
منتخب حکومت کے اختیارات کی حدود پر سوالات
وزیراعلیٰ نے مرکز کے زیر انتظام خطے کے موجودہ نظام کے تحت منتخب حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے سوال کیا کہ محکمہ محصولات (ریونیو ڈیپارٹمنٹ) کو منتخب حکومت کے دائرئہ اختیار سے باہر کیوں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا، ”ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام خطے میں سکیورٹی اور امن و قانون ان کے پاس ہے جبکہ باقی ہمارے پاس ہے۔ پھر محکمہ محصولات کو ہمارے دائرئہ اختیار سے باہر کیوں رکھا گیا ہے؟“عمر نے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کا بھی حوالہ دیا اور سوال کیا کہ اس کا سکیورٹی یا امن و قانون سے کیا تعلق ہے۔انہوں نے آئی یو ایس ٹی اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی سمیت یونیورسٹیوں کا بھی ذکر کیا اور سوال کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر کے بطور چانسلر کام کرنے کے دوران وزیراعلیٰ کے کردار کو کیوں محدود کیا گیا ہے۔
’تقریباً دو سال گزر گئے، بزنس رولز اب بھی منظور نہیں ہوئے‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے تقریباً دو سال قبل اپنے بزنس رولز مرکز کو بھیجے تھے لیکن ابھی تک منظوری کا انتظار ہے۔انہوں نے کہا، ”ہمیں بزنس رولز مرکز کو بھیجے تقریباً دو سال ہو چکے ہیں، لیکن انہیں اب تک منظور نہیں کیا گیا۔“انہوں نے کہا کہ اس تاخیر کی وجہ سے مرکز کے زیر انتظام خطے کے نظام کے تحت انتظامی اختیارات کی تقسیم اور ان کے استعمال کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری میں تاخیر پر سوال
وزیراعلیٰ نے ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ منتخب حکومت کے قیام کو تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود جموں و کشمیر میں اب تک ایڈووکیٹ جنرل موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ”ہماری حکومت بنے تقریباً دو سال ہو چکے ہیں، لیکن جموں و کشمیر میں اب بھی ایڈووکیٹ جنرل نہیں ہے۔“عمر نے کہا کہ حکومت پہلے ہی اپنی تجویز پیش کر چکی ہے اور معاملہ کابینہ سے گزرنے کے بعد غور کے لیے آگے بھیجا جا چکا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ اس کے باوجود تقرری اب تک کیوں عمل میں نہیں آ سکی۔
’ایسی صورتحال کی وجہ مرکز کے زیر انتظام خطے کا درجہ ہے‘
عمر نے کہا کہ منتخب حکومت کو درپیش مسائل براہِ راست جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام خطے کی حیثیت کا نتیجہ ہیں۔انہوں نے کہا، ”مجھے بتائیں، ملک کی کس ریاست میں ایسا ہوتا ہے؟ وزیراعلیٰ ایک قرارداد پیش کرتا ہے اور قانون سکریٹری اس پر رائے دیتا ہے۔ ایسا صرف مرکز کے زیر انتظام خطے میں ہو سکتا ہے۔“انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ منتخب حکومت سے متعلق قانونی آراءسیاسی انتظامیہ سے مناسب مشاورت کے بغیر کیوں جاری کی جا رہی ہیں۔عمر نے کہا کہ ایک موقع پر وہ خود محکمہ قانون کی ایک رائے سے لاعلم تھے، حالانکہ وہ وزیراعلیٰ کے ساتھ ساتھ وزیر قانون بھی تھے اور معاملہ پہلے ہی کہیں اور پہنچایا جا چکا تھا۔انہوں نے کہا، ”بطور وزیر قانون اور بطور وزیراعلیٰ مجھے معلوم نہیں، لیکن آپ کو خط موصول ہو چکا ہے۔ یہ مرکز کے زیر انتظام خطہ ہونے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔“
’ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق کے ساتھ کیا ہوا‘
عمر نے جموں و کشمیر کے تاریخی آئینی ڈھانچے کا بھی حوالہ دیا، جس میں مہاراجہ ہری سنگھ سے متعلق انتظامات اور ریاستی باشندوں کے لیے موجود تحفظات شامل تھے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق ریاست سے متعلق آئینی اور قانونی ڈھانچے میں بعد ازاں جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد تبدیلیاں کی گئیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے کئی معاملات پر کمیٹیاں تشکیل دی ہیں، تاہم ان کی رپورٹس ابھی موصول ہونا باقی ہیں۔عمر نے کہا، ”ہماری تذلیل کی گئی ہے۔ ہم اس کا حساب چاہتے ہیں۔ ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔“انہوں نے کہا کہ مرکز کو ریاستی حیثیت بحال کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنا چاہیے اور دہرایا کہ قانون ساز اسمبلی اپنا موقف واضح کر چکی ہے۔انہوں نے کہا، ”جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی مرکز سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔“قرارداد پر بحث مکمل ہونے کے بعد اسے ووٹنگ کے لئے ایوان میں رکھا گیا اور صوتی ووٹنگ کے ذریعے ایوان نے اس قرارداد کو منظور کیا ۔دن کی طے شدہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد ایوان کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور اب یہ منگل کو صبح دس بجے دوبارہ منعقد ہوگا۔

 

 

Popular Categories

spot_imgspot_img