حکومتِ پاکستان، مقامی حکومت اور احتجاج کرنے والوں سے امن کی بحالی اور تصادم کے بجائے مشاورت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل
ایک بیان کے مطابق لائن آف کنٹرول کے ایک جانب ہونے والے واقعات تمام کشمیریوں کو متاثر کرتے ہیں۔اپنے خاندان کے جموں و کشمیر، بشمول لائن آف کنٹرول کے اُس پار، کی سماجی، تعلیمی، دینی اور سیاسی زندگی سے تاریخی تعلق کا ذکرمیرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لائن آف کنٹرول کے اُس پار، بالخصوص راولاکوٹ اور پونچھ میں جاری بے چینی کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
اپنی پوسٹ میں میرواعظ نے مزید کہا کہ لائن آف کنٹرول کے اُس پار بالخصوص راولاکوٹ اور پونچھ میں جاری بے چینی کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی جانوں کے ضیاع کی اطلاعات پر مجھے انتہائی دکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔ میری دلی ہمدردیاں اور دعائیں تمام سوگوار خاندانوں اور اس المناک صورتحال سے متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔
مجھے پاکستان میں مقیم بڑی تعداد میں کشمیری ریاستی باشندگان کی نمائندگی، آئینی اور سیاسی حیثیت سے متعلق جاری مباحث پر بھی تشویش ہے۔ شناخت، نمائندگی اور سیاسی حقوق جیسے معاملات تقاضا کرتے ہیں کہ انہیں حساسیت، مکالمے اور عوام کے وسیع اعتماد کے ساتھ حل کیا جائے۔
کسی بھی نظامِ حکومت کی مضبوطی اور اس کی حقیقی حیثیت کا انحصار بالآخر اُس کے عوام کی رضامندی، اعتماد اور بھروسے پر ہوتا ہے جس کی وہ خدمت کرتا ہے۔ ہماری مشترکہ تاریخ اور لائن آف کنٹرول کے آرپار موجود سماجی، ثقافتی اور خاندانی رشتے اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے ایک حصے میں رونما ہونے والے واقعات کی بازگشت دوسرے حصے اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن تک بھی پہنچتی ہے۔
میرے خاندان کا جموں و کشمیر، بشمول لائن آف کنٹرول کے اُس پار، کی سماجی، تعلیمی، دینی اور سیاسی ترقی سے ایک طویل تاریخی تعلق رہا ہے۔
چونکہ مجھے مسلسل لائن آف کنٹرول کے اُس پار کے لوگوں کی جانب سے موجودہ صورتحال پر اضطراب، تشویش اور غم و غصے کے اظہار پر مبنی پیغامات موصول ہو رہے ہیں، اس لیے میں حکومتِ پاکستان اور وہاں کی مقامی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تحمل، مکالمے اور بامعنی رابطے کو ترجیح دیں اور اختلافات کو تصادم کے بجائے مشاورت اور باہمی مفاہمت کے ذریعے حل کریں، جبکہ انسانی حقوق اور انسانی جان کے تقدس کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔
میں احتجاج کرنے والے تمام فریقوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ دانشمندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ جلد از جلد امن اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔
میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بسنے والے تمام اہلِ جموں و کشمیر کو دائمی امن، استحکام عطا فرمائے اور مسئلۂ جموں و کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل نصیب کرے۔





