ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں، اقتصادی پابندیوں اور سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، خلیجی خطے اور امریکی فوجی تنصیبات کے حوالے سے بھی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی تازہ فوجی کارروائی مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سات گھنٹوں پر محیط آپریشن کے دوران ایران کے ساحلی علاقوں، بحری تنصیبات، ڈرون اڈوں اور دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات کم کرنا اور ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا تھا۔ اسی دوران امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے بامپور میں واقع ایک فوجی چھاؤنی پر امریکی حملے میں تقریباً 13 میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں سات فوجی اہلکار، جن میں حاضرِ سروس اور ریٹائرڈ اہلکار شامل ہیں، ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب متعدد ساحلی علاقوں میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسی دوران ایران کے صوبہ ایلام کے شہر دہلوران میں ایک منرل واٹر فیکٹری بھی میزائل حملے کی زد میں آئی۔ مقامی حکام کے مطابق فیکٹری کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ مالی نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس، کویت میں علی السالم ایئر بیس، مینا عبداللہ لاجسٹک مرکز اور اردن کے الازرق فضائی اڈے پر حملے کیے گئے، تاہم ان دعوؤں پر امریکہ یا متعلقہ ممالک کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک سخت بیان میں خبردار کیا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی "دشمنانہ کارروائیاں” بند نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات روکی گئیں تو خطے کے دیگر ممالک بھی محفوظ انداز میں توانائی برآمد نہیں کر سکیں گے، اور ایران کسی بھی معاشی یا عسکری دباؤ کا متناسب جواب دے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتا تو آئندہ ہفتے ایران کے پاور پلانٹس کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا، جبکہ زمینی کارروائی کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی محاذ کے ساتھ ساتھ اقتصادی دباؤ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے مرکزی بینک سے منسلک 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام ایران کی مبینہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں اور پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں بھی ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خدشات کے باعث دفاعی پالیسی بل کی پیش رفت روک دی۔ ارکان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ پہلے ایران کے حوالے سے اپنی واضح حکمت عملی اور کانگریس کی منظوری سامنے لائے، اس کے بعد ہی مزید فوجی اخراجات یا کارروائیوں کی حمایت کی جا سکتی ہے۔
عالمی سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس تیزی سے بدلتی صورتحال کے باعث نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل، بحری تجارت اور سفارتی استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔





