منگل, جولائی 14, 2026
28.9 C
Srinagar

پہلگام کلاؤڈ برسٹ کے بعد پینے کے پانی کی 57 اسکیمیں اب بھی بند

اننت ناگ، : آوورہ۔پہلگام علاقے میں حالیہ کلاؤڈ برسٹ(بادل پھٹنے ) سے متاثر ہونے والی پینے کے پانی کی فراہمی کی دو تہائی سے زائد اسکیمیں اب بھی بحال نہیں ہو سکیں، جس کے باعث جنوبی کشمیر میں ہزاروں صارفین ٹینکروں کے ذریعے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ حکام سیلاب سے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کلاؤڈ برسٹ(بادل پھٹنے) اور اس کے بعد آنے والے اچانک سیلاب نے پینے کے پانی کی 79 سپلائی اسکیموں کو شدید نقصان پہنچایا۔ سیلابی ریلوں نے پائپ لائنیں بہا دیں، پانی سپلائی کرنے والے بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا اور درجنوں دیہات کو صاف پانی فراہم کرنے والے اہم آبی ذرائع کا نظام درہم برہم کر دیا۔ اگرچہ بحالی کی ٹیمیں 22 اسکیموں کو دوبارہ فعال کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں، تاہم باقی 57 اسکیمیں تاحال بحال نہیں ہو سکیں، جس سے متاثرہ علاقوں میں پانی کا بحران برقرار ہے۔

اس صورتحال نے پہلے ہی قدرتی آفت کے باعث تباہ شدہ سڑکوں، بہہ جانے والے پلوں اور دیگر نقصانات کا سامنا کرنے والے مقامی لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں مرمتی کام مکمل ہونے تک پانی کے ٹینکر ہی پینے کے پانی کا واحد ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

محکمہ پی ایچ ای (محکمہ جل شکتی) کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ بحالی کی ٹیمیں خراب شدہ پائپ لائنوں کی تبدیلی، آبی ذرائع کے ڈھانچوں کی دوبارہ تعمیر اور سیلابی ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔ تاہم، وسیع پیمانے پر ہونے والے نقصان کے باعث پانی کی فراہمی کے نظام کی مکمل بحالی میں وقت لگ رہا ہے۔

پہلگام-آوورہ علاقے میں آنے والے کلاؤڈ برسٹ(بادل پھٹنے) نے عوامی بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، جن میں پینے کے پانی کی فراہمی کا شعبہ آفت کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل ہے۔ [کے این ٹی]

Popular Categories

spot_imgspot_img