ڈوڈہ:رات بھر ہونے والی موسلادھار بارش اور بادل پھٹنے کے باعث منگل کے روز ضلع ڈوڈہ میں اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آئے، جس سے ٹھاٹھری قصبے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ متعدد مکانات، دکانیں اور گاڑیاں مٹی اور ملبے تلے دب گئیں، جبکہ اہم ڈوڈہ۔کشتواڑ قومی شاہراہ (این ایچ۔244) کئی مقامات پر بند ہو گئی۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ٹھاٹھری رہا، جہاں سیلابی ریلہ اپنے ساتھ بڑے پتھر، مٹی اور ملبہ بہا کر آبادی اور تجارتی علاقوں میں داخل ہو گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد مکانات اور دکانیں مکمل یا جزوی طور پر ملبے تلے دب گئیں، جبکہ نجی املاک کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ انتظامیہ نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہے۔
مسلسل بارش کے باعث پریم نگر میں بھی اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آئے، جس کے نتیجے میں ڈوڈہ-کشتواڑ شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ کئی گاڑیاں مٹی اور پتھروں تلے دب گئیں یا راستے میں پھنس گئیں، جس کے باعث حکام نے احتیاطی طور پر شاہراہ پر آمد و رفت معطل کر دی۔ سڑک کی بحالی کے لیے متعلقہ اداروں نے عملہ اور مشینری موقع پر روانہ کر دی ہے۔
حکام کے مطابق بحالی کا کام فوری طور پر شروع کر دیا گیا ہے، تاہم مسلسل بارش اور غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانیں ملبہ ہٹانے کے کام میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ شاہراہ پر ٹریفک بحال ہونے تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
شدید بارشوں نے وادی چناب کے دیگر علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے، جہاں ندی نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑوں سے پتھر گرنے کے واقعات کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں اور مزید حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ انتظامیہ نے ندی نالوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں کے قریب رہنے والے شہریوں سے چوکس رہنے اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی اپیل کی ہے۔ [کے این ٹی]





