سری نگر،:جموں و کشمیر پولیس نے وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں مختلف شیعہ تنظیموں کے پیروکاروں کے درمیان مبینہ جھڑپ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس نے پیر کو بتایا کہ بڈگام کے ہاردپنجو گاؤں میں پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو ہوا دینے یا اس میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پولیس نے یقین دہانی کرائی کہ معاملے کی تحقیقات غیر جانبدارانہ، شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں کی جائیں گی۔ پولیس کے مطابق، "واقعے کے ہر پہلو کی شواہد کی بنیاد پر جانچ کی جا رہی ہے اور جو بھی شخص قصوروار پایا گیا، خواہ اس کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو، اسے بخشا نہیں جائے گا۔”
پولیس نے کہا کہ واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے گمراہ کن اور غیر مصدقہ مواد کا بھی نوٹس لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، "اس طرح کی گمراہ کن معلومات غیر ضروری خوف و ہراس پھیلانے، امن و امان کو متاثر کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔”
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی پلیٹ فارم پر افواہیں، غیر مصدقہ دعوے یا اشتعال انگیز مواد تیار، شیئر یا فارورڈ نہ کریں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ اطلاعات پر ہی اعتماد کریں۔
بڈگام پولیس نے کہا کہ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ اگر کوئی شخص عوام کو گمراہ کرنے یا امن و امان میں خلل ڈالنے کی نیت سے جھوٹا یا اشتعال انگیز مواد تیار کرتا، پھیلاتا یا اس کے فروغ میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف متعلقہ قانونی دفعات کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔
بڈگام پولیس نے معاشرے کے تمام طبقات سے امن برقرار رکھنے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے اور تحقیقات میں تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس نے کہا کہ وہ شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق تحقیقات کے ذریعے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ عوامی امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے والے ہر شخص کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔



