جمعہ, مارچ ۲۷, ۲۰۲۶
21.2 C
Srinagar

پیٹرول-ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10-10 روپے فی لیٹر کی کمی،ایکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار: پون کھیڑا

نئی دہلی،: بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے جمعہ کو پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10-10 روپے فی لیٹر کی کمی کا اعلان کیا یہ کمی فوری طور پر نافذ ہو گئی ہے حکومت کے اس فیصلے سے تیل مارکیٹنگ کمپنیوں پر دباؤ کم ہوگا اور انہیں فی الحال پیٹرول-ڈیزل کی قیمتیں نہیں بڑھانی پڑیں گی۔

وزارتِ خزانہ نے آج جاری نوٹیفکیشن میں بتایا کہ پیٹرول پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی 13 روپے فی لیٹر سے گھٹا کر تین روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر سے گھٹا کر صفر کر دی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھاکہ "مغربی ایشیا بحران کے پیش نظر گھریلو استعمال والے پیٹرول-ڈیزل پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی میں 10-10 روپے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے۔ اس سے صارفین کو قیمتوں میں اضافے سے تحفظ ملے گا۔” انہوں نے بتایا کہ اس کی اطلاع پارلیمنٹ کو بھی دے دی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مغربی ایشیا بحران کے سبب بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے تیل کمپنیوں پر دونوں ایندھنوں کی قیمتیں بڑھانے کا دباؤ تھا۔ ایکسائز ڈیوٹی میں کمی سے انہیں راحت ملے گی۔

بین الاقوامی بازار میں مارچ کا برینٹ کروڈ فیوچر فی الحال 0.5 فیصد گر کر تقریباً 107.5 ڈالر فی بیرل پر ہے۔ مغربی ایشیا بحران کے بعد سے اس کی قیمت تقریباً 50 فیصد بڑھ چکی ہے۔

یہ کمی عوامی تیل کمپنیوں کے نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کو کیے جانے والے برآمدات پر بھی لاگو ہوگی۔ اس کے علاوہ حکومت نے ڈیزل کے برآمد پر 21.5 روپے اور ایوی ایشن فیول کے برآمد پر 29.5 روپے فی لیٹر کا محصول لگایا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سے ملک میں ڈیزل اور ایوی ایشن فیول کی زیادہ دستیابی یقینی ہو سکے گی۔

پیٹرول-ڈیزل کے برآمد پر خصوصی ایکسائز ڈیوٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ برآمد شدہ پیٹرول پر خصوصی ایکسائز ڈیوٹی صفر ہے جبکہ ڈیزل پر 18.5 روپے فی لیٹر ہے۔

اس کمی کے بعد پیٹرول پر بنیادی ایکسائز ڈیوٹی 1.40 روپے، خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی تین روپے، زرعی انفراسٹرکچر و ترقی سیس 2.50 روپے اور اضافی ایکسائز ڈیوٹی (سڑک و انفراسٹرکچر سیس) پانچ روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

ڈیزل پر بنیادی ایکسائز ڈیوٹی 1.80 روپے، خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی صفر، زرعی انفراسٹرکچر و ترقی سیس چار روپے اور خصوصی ایکسائز ڈیوٹی (سڑک و انفراسٹرکچر) دو روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
ان مرکزی ٹیکسوں کے علاوہ پیٹرول-ڈیزل پر ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے الگ الگ ویٹ بھی لگایا جاتا ہے۔

اس دوران، غیر برانڈڈ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں جمعہ کو بھی غیر متبدل رہیں۔ ملک کی سب سے بڑی تیل کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق، قومی دارالحکومت میں آج پیٹرول کی قیمت 94.77 روپے اور ڈیزل کی 87.67 روپے فی لیٹر پر مستحکم رہی۔ غیر برانڈڈ پیٹرول-ڈیزل کی قیمت میں 30 اکتوبر 2024 کے بعد سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

ایکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار: پون کھیڑا

pawan khera
pawan khera

کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے جمعہ کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی رپورٹس پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ مالیاتی تبدیلیوں کے باوجود صارفین کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملا ہے مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر، حکومت نے جمعہ کو مقامی کھپت کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی میں فی لیٹر 10 روپے کی کمی کی اور کہا کہ اس اقدام سے صارفین کو قیمتوں میں اضافے سے تحفظ ملے گا۔ مزید برآں، ڈیزل کی برآمدات پر 21.5 روپے فی لیٹر اور اے ٹی ایف (ہوائی جہاز کے ایندھن) پر 29.5 روپے فی لیٹر ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

ایک بیان میں کھیڑا نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں "کمی” کے دعوے والی سرخیاں گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے کہا، "اگر آپ نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ‘کمی’ کے بارے میں سرخیاں دیکھیں اور سوچا کہ حکومت نے آپ کی جیب کو ریلیف دیا ہے تو آپ غلط فہمی میں ہیں، کیونکہ ڈیلرز اور صارفین کے لیے قیمتیں اب بھی وہی ہیں۔”

انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نے ریٹیل قیمتوں میں کٹوتی کے بجائے ‘خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی’ کو کم کیا ہے، جو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر عائد ایک لیوی ہے۔ کھیڑا کے مطابق، اس اقدام سے عوام کے لیے فوری بچت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، "جو چیز اصل میں کم کی گئی ہے وہ ‘خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی’ ہے – یہ وہ ٹیکس ہے جو آئل مارکیٹنگ کمپنیاں حکومت کو ادا کرتی ہیں۔ ‘خصوصی’ اور ‘اضافی’ کے الفاظ خود بتاتے ہیں کہ یہ ٹیکس کتنا غیر ضروری ہے۔”

کانگریس رہنما نے مزید نشاندہی کی کہ مغربی ایشیا میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے تیل کمپنیاں مالی دباؤ کا شکار ہیں اور وہ صارفین پر بوجھ ڈالے بغیر نقصانات برداشت کر رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کو ایک تاخیر سے کیا گیا محدود اقدام قرار دیتے ہوئے کہا، "حکومت نے اب محض اس بوجھ کا ایک چھوٹا سا حصہ بانٹنے پر اتفاق کیا ہے، وہ بھی تقریباً ایک ماہ بعد۔”

انہوں نے دلیل دی کہ اگرچہ اس اقدام سے تیل کمپنیوں کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے، لیکن یہ ایندھن کی زیادہ قیمتوں سے جوجھنے والے عام شہریوں کے خدشات کو دور نہیں کرتا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ "مصنوعی سرخیوں” کے بجائے قیمتوں میں ٹھوس کمی کو ترجیح دے۔

ہندوستان میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین ہمیشہ سے ایک حساس سیاسی مسئلہ رہا ہے، جس پر عالمی خام تیل کی قیمتیں، شرح مبادلہ اور مرکزی و ریاستی ٹیکس اثر انداز ہوتے ہیں۔ جہاں حکومت وقتاً فوقتاً ایکسائز ڈیوٹی میں ردوبدل کرتی رہتی ہے، وہیں اپوزیشن جماعتیں اکثر الزام لگاتی ہیں کہ خام تیل کی کم قیمتوں کا پورا فائدہ صارفین تک نہیں پہنچایا جاتا۔

یواین آئی

Popular Categories

spot_imgspot_img