بدھ, مارچ ۴, ۲۰۲۶
17.7 C
Srinagar

’امریکہ کی توجہ ایران میں ہر اس چیز کو نشانہ بنانے پر جو اُن کو نقصان پہنچا سکتی ہو‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہReuters

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ بمباری مہم کے آغاز کے بعد سے ایران میں دو ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے اسی دورانیے میں 500 سے زیادہ بیلسٹک میزائل اور دو ہزار سے زائد ڈرون داغے گئے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف شدید فضائی طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ کارروائی کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران کیے گئے حملے سنہ 2003 میں عراق جنگ کے آغاز پر کیے گئے حملوں سے تقریباً دو گنا ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایران کے خلاف جاری مشن میں 50 ہزار سے زائد فوجی، 200 لڑاکا طیارے، دو ایئرکرافٹ کیریئرز اور بمبار طیارے حصہ لے رہے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ مشرقِ وسطیٰ میں گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران امریکہ کی سب سے بڑی فوجی کارروائی ہے۔

ایڈمرل کوپر نے مزید کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے 17 بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں، جس کے بعد ایرانی بحریہ مکمل طور ختم ہو چکی ہے۔ اب، اُن کے بقول، امریکہ کی توجہ ’ان تمام چیزوں کو نشانہ بنانے پر ہے جو ہم (امریکہ) پر حملہ کر سکتی ہے۔‘

امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ چار دنوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، سینکڑوں بیلسٹک میزائل، لانچرز اور ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔

گذشتہ چند گھنٹوں میں اسرائیل نے دوبارہ اعلان کیا کہ وہ ایران پر ’وسیع پیمانے پر حملہ‘ کر رہا ہے اور ساتھ ہی لبنان میں حزب اللہ کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

Popular Categories

spot_imgspot_img