ہفتہ, فروری ۱۴, ۲۰۲۶
13.3 C
Srinagar

مجھے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے میں نقصان ہی نظر آ رہا ہے: عمر عبداللہ

سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے جموں وکشمیر کے شعبہ باغبانی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اعلیٰ قیمت والی امریکی مصنوعات مقامی مارکیٹ میں داخل ہوئیں تو مقامی کاشتکاروں کو نقصان ہو سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز یہاں زرعی یونیوسٹی کے گونگل فیسٹول کے حاشیئے پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔ہند- امریکہ مجوزہ تجارتی معاہدے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ‘مجھے نہیں معلوم کہ اس معاہدے کے ملک کو کیا فائدے ہوں گے لیکن مجھے نقصان ہی نظر آ رہا ہے، جن چیزوں کو ملک میں آنے کی اجازت دی جا رہی ہے وہ سب جموں وکشمیر کی پیداوار ہیں چاہئے وہ میوہ، سیب، اخروٹ ، بادام وغیر ہے، اس معاہدے سے بہت فرق پڑے گا’۔

ان کا کہنا تھا: ‘ہمارے کسانوں نے گذشتہ برسوں کے دوران پیداوار کو بہتر اور معیاری بنانے کے لئے بہت سرمایہ کاری کی اور بہتر پیداوار کو صحیح وقت پر مارکیٹ تک پہنچایا جا رہا ہے، ، اب اگر اعلیٰ قیمت کی چیزیں ان کی فروخت ہوں گی اور کم قیمت کی چیزیں ہمارے گروروس کی بکیں گی تو وہ ہمارے کسانوں کے ساتھ مذاق ہوگا’۔
انہوں نے کہا: ‘مجھے فی الحال اس معاہدے میں فائدے کے بجائے نقصان ہی نظر آرہا ہے’۔عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مکمل کوشش کی جا رہی ہے کہ دیہی معیشت کو بڑھا دیا جائے جس کے لئے کسانوں تک پہنچنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں بجٹ میں بھی دیہی معیشت کو بڑھاوا دینے کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ۔
ان کا کہنا تھا: ‘اگر ہمیں امریکہ جیسے ملکوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے تو ہماری پیداوار معیاری ہونی چاہئے’۔
بنگلہ دیش کے الیکشن کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر اعلیٰ نے کہا: ‘ہمارے پڑوسی ملک جتنے مستحکم ہوں گے اتنا ہمیں بھی فائدہ ہے، کوئی نہیں چاہتا کہ اس کا ہمسایہ غیر مستحکم ہو، بنگلہ دیش میں اب عوامی حکومت بنی ہے امید ہے کہ ہمارے ان کے ساتھ تعلقات دوبارہ ٹھیک ہوں گے’۔

Popular Categories

spot_imgspot_img