جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے خواتین کے لیے مفت بس سروس کا آغاز ایک خوش آئند قدم ہے جو خواتین کی نقل و حرکت کو آسان بنانے اور ان کے لیے زیادہ محفوظ اور بااختیار ماحول فراہم کرنے کے دعوے کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ یہ فیصلہ جموں وکشمیر (یوٹی) میں خواتین کے لیے سفر کو سہل بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے، جس کے تحت تمام سمارٹ سٹی الیکٹرانک بسوں اور جموں و کشمیر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (جے کے آر ٹی سی) کی بسوں میں خواتین بلا معاوضہ سفر کر سکیں گی۔یہ اقدام حکومت کے خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے منصوبوں کی ایک کڑی ہے، جس کا اعلان وزیر اعلیٰ نے حالیہ بجٹ تقریر میں کیا تھا۔ اس فیصلے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے خواتین کو نہ صرف معاشی سہولت ملے گی بلکہ وہ خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں گی، خاص طور پر وہ خواتین جو تعلیمی یا پیشہ ورانہ ضروریات کے تحت روزانہ سفر کرتی ہیں۔
لیکن کیا یہ اسکیم واقعی ایک ٹھوس اور دیرپا تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، یا یہ محض ایک علامتی قدم ہے جو سیاسی فائدے کے لیے اٹھایا گیا ہے؟ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت ضرور اہم ہے۔تاہم یاد دہانی کے لئے کہنا چاہیں گے اس سے قبل خواتین کے لئے مخصوص بس سروس شروع کی گئی تھی ،لیکن اس حال سب کے سامنے ہے کہ وہ بس سروس بے موت مرگئی اور نامعلوم وجوہات کی بناءپر اُس بس سروس کو بند کردیا گیا تھا ۔گوکہ حکومت نے خواتین کے لئے اب ایک نئی منصوبے بندی کے تحت مفت بس سروس شروع کی ۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ یہ مفت برس سروس کب تک جاری رہے گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ بنیادی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ مثلاً، کیا یہ سروس مستقبل میں برقرار رہ سکے گی، یا مالی دباو¿ کے باعث کسی وقت اسے معطل کر دیا جائے گا؟ کیا خواتین کے لیے مفت سفری سہولت سے ریاستی معیشت پر کوئی منفی اثر پڑ سکتا ہے؟ اور سب سے اہم، کیا یہ فیصلہ خواتین کے تحفظ اور ان کے سماجی و معاشی ترقی کے لیے کوئی نمایاں فرق پیدا کرے گا؟یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اس سہولت کو درست طریقے سے نافذ کیا جائے تاکہ یہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے، بلکہ دور دراز اور دیہی علاقوں میں بھی اس کے ثمرات پہنچیں۔ مزید برآں، سڑکوں پر خواتین کے تحفظ کے حوالے سے جو عملی اقدامات درکار ہیں، ان پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
اگر خواتین کو محفوظ اور بااعتماد سفری ماحول فراہم کرنا ہے تو صرف مفت سفری سہولت دینا کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سخت سیکیورٹی اقدامات، خواتین کے لیے مخصوص نشستیں، اور دیگر سہولتوں کی فراہمی بھی ضروری ہے۔حکومت کے اس اقدام کو سراہا جانا چاہیے، مگر یہ بھی ضروری ہے کہ یہ محض ایک انتخابی وعدے یا وقتی اقدام تک محدود نہ رہے۔ خواتین کی ترقی کے لیے مستقل اور دیرپا پالیسیاں ضروری ہیں، جن میں روزگار کے مواقع، تعلیمی سہولیات، اور سماجی تحفظ کے دیگر پہلوو¿ں کو بھی شامل کیا جائے۔ اگر مفت بس سروس کو دیگر ٹھوس اقدامات کے ساتھ جوڑا جائے، تو یہ واقعی خواتین کی معاشرتی و اقتصادی ترقی میں ایک مثبت سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
