عید کا لفظ عربی لغت کے مادہ ’عود‘ سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں ’واپس آنا‘ یا’لوٹنا‘۔ اسلامی عیدوں کو اسی مناسبت سے عید کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دن روحانی پاکیزگی، گناہوں سے توبہ، اور فطرتِ انسانی کی طرف پلٹنے کی علامت ہوتے ہیں۔ عید دراصل اس جدوجہد کا انعام ہے جو مسلمان رمضان المبارک میں نفس کی تربیت اور روحانی ترقی کے لیے کرتا ہے۔جب بندہ ایک مہینے کی ریاضت اور عبادات کے بعد اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے، تو عید اس کی کامیابی کا دن بن جاتا ہے۔ یہی مفہوم عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے ذریعے بھی اجاگر ہوتا ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل پیرا ہونے کا مظہر ہے۔اسلام میں عید کو محض ایک تہوار نہیں بلکہ عبادت، شکر گزاری، اور اللہ کی رحمتوں کے نزول کا دن قرار دیا گیا ہے۔ رمضان المبارک کے بعد عید الفطر ہمیں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ جب کوئی شخص اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کر دیتا ہے، تو اسے دنیا اور آخرت میں انعام و برکت سے نوازا جاتا ہے۔ یہ دن ان لوگوں کے لیے خوشی اور شادمانی کا باعث بنتا ہے جو پورے رمضان میں صبر، استقامت اور اطاعت کے ساتھ عبادات میں مشغول رہے۔اسی طرح، عید الاضحی ہمیں قربانی کے حقیقی فلسفے کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کرنے کا جو غیر متزلزل عزم ظاہر کیا، وہ اخلاص اور ایثار کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ یہ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں ہر قسم کی قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے۔
عید صرف ذاتی خوشی اور مسرت کا نام نہیں بلکہ یہ دن پوری امت مسلمہ کے درمیان محبت، اخوت اور مساوات کے جذبات کو فروغ دینے کا موقع ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں زکوٰة الفطر اور قربانی کو عید کے لازمی اجزاءمیں شامل کیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے نادار افراد بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے:’ہر وہ دن جس میں اللہ کی نافرمانی نہ کی جائے، وہی عید کا دن ہے۔‘ اس قول کی روشنی میں دیکھا جائے تو عید حقیقی خوشی اور کامیابی کا وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے نفس کی اصلاح کرتا ہے، گناہوں سے توبہ کرتا ہے، اور نیکی کے راستے پر گامزن رہتا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق، عید ہمیں اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کی یاد بھی دلاتی ہے۔ یہ دن صرف نئے کپڑے پہننے، عمدہ کھانے کھانے اور تفریح کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس دن ہمیں ان لوگوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو محروم اور ضرورت مند ہیں۔عید سے قبل زکوٰة الفطر کی ادائیگی کو لازم قرار دیا گیا تاکہ غریبوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شریک کیا جا سکے۔عید کے موقع پر صدقہ و خیرات کرنے کی تاکید کی گئی تاکہ سماج میں یکجہتی اور ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو۔عید کے دن رشتہ داروں، دوستوں اور اہلِ محلہ سے ملاقات اور ان کی خبر گیری کرنا سنت نبوی ﷺ ہے۔
عید حقیقت میں اللہ کی نعمتوں پر شکر کا دن ہے۔ ایک مہینے کے روزے رکھنے کے بعد جب بندہ عید کے دن اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو یہ اس کی رحمتوں کی پہچان کا عملی اظہار ہوتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا:’اور تاکہ تم تعداد پوری کرو، اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو، اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، اور تاکہ تم شکر گزار بنو۔‘ (البقرہ:185)یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عید کا دن شکر گزاری اور اللہ کی تسبیح و تہلیل کا دن ہے۔ عید کے روز تکبیرات پڑھنے، اجتماعی طور پر نماز عید ادا کرنے، اور اللہ کی کبریائی بیان کرنے کی جو سنت قائم کی گئی ہے، وہ دراصل اسی فلسفے کی عکاسی کرتی ہے۔عید محض ایک روایتی تہوار نہیں بلکہ ایک روحانی تجدید، سماجی ہم آہنگی، اور خدمتِ خلق کا موقع ہے۔ اگر ہم عید کی اصل روح کو سمجھ کر اپنی زندگی میں اپنائیں، تو ہر دن ہمارے لیے عید کا دن بن سکتا ہے۔لہٰذا، ہمیں چاہیے کہ عید کو محض ظاہری خوشیوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے حقیقی پیغام کو اپناتے ہوئے نیکی، عبادت، محبت اور ایثار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو ہمیں حقیقی خوشی اور کامیابی کی طرف لے کر جا سکتا ہے۔
