کٹھوعہ میں فوجی گاڑی پر گھات لگا کر خونین حملہ,افسر سمیت 5 جوان جاں بحق

کٹھوعہ میں فوجی گاڑی پر گھات لگا کر خونین حملہ,افسر سمیت 5 جوان جاں بحق

5فوجی اہلکار زخمی ،وسیع علاقے کی ناکہ بندی ،خصوصی کمانڈوز تعینات

نیوز ایجنسیز

جموںجموں وکشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے لوہی ملہار علاقے میں پیر کی سہ پہر ملی ٹینٹوں نے فوجی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر(جے سی او) سمیت5 اہلکار جاں بحق جبکہ5 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ایک وسیع جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی ہے۔اطلاعات کے مطابق کٹھوعہ ضلع کے لوہی ملہار بلاک کے مچھڈی علاقے میں پیر کی سہ پہر تین بجکر 30منٹ پر ملی ٹینٹوں نے فوجی کانوائی پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ذرائع نے بتایا کہ ملی ٹینٹوں نے پہلے فوجی گاڑی پر گرینیڈ داغے اور اس کے بعد اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت دس اہلکار شدید طورپر زخمی ہوئے۔حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فوج کے سینئر آفیسران جائے موقع پر پہنچے اور زخمی ہوئے اہلکاروں کو علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا تاہم جے سی او سمیت چار اہلکار زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔ذرائع کے مطابق حملے میں زخمی ہوئے چھ میں سے تین اہلکاروں کی حالت بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ اس حملے میں زخمی اہلکاروں میں سے ایک اور فوجی جوان نے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ دیا ۔گوکہ اس کی تصدق سرکاری طور پر نہیں ہوئی ۔تاہم اس کی غیر مصدقہ ذرائع نے تصدیق کی ۔باوثوق ذرائع نے بتایا کہ فوج ، پولیس ، پیرا کمانڈوز نے ایک وسیع جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔ذرائع نے بتایا کہ جنگلی علاقے میں شدید گولیوں کا تبادلہ جاری رہا ہے جبکہ دہشت گردوں کو مار گرانے کی خاطر ہیلی کاپٹروں کی بھی خدمات حاصل کی گئی ہے۔ان کے مطابق فوج ، پولیس کے سینئر آفیسران جائے موقع پر پہنچے اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد صوبے جموں میں سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملی ٹینٹوں نے فوجی گاڑی پر چاروں طرف سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں جوانوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔دفاعی ذرائع کے مطابق کٹھوعہ حملے میں چار فوجی اہلکار شہید ہوئے ہیں، ان کے مطابق فوج نے ایک وسیع العریض علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن کا دائرہ وسیع کیا ہے۔ان کے مطابق جنگلی علاقے میں ملی ٹینٹوں اور فورسز کے مابین گولیوں کا تبادلہ جاری ہے اور ملی ٹینٹوں کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کریں گے۔دریں اثنا کٹھوعہ میں فوجی کانوائی پر حملے کے بعد صوبہ جموں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔کٹھوعہ ، راجوری ، پونچھ ، ریاسی اور جموں میں بھی اضافی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ لوگوں سے تلقین کی گئی ہے کہ مشکوک نظر آنے والے افراد کے بارے میں فوری طورپر نزدیکی پولیس اسٹیشن کے ساتھ رابط قائم کریں۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے جموں صوبے میں لگاتار حملے ہو رہے ہیں ، گر چہ سیکورٹی ایجنسیوں نے نئی حکمت عملی بھی ترتیب دی تاہم ملی ٹینٹوں کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ریاسی میں مشتبہ افراد کی نقل وحرکت کے بعد تلاشی آپریشن: جموں وکشمیر کے ریاسی ضلعی کے تلی چاسنا علاقے میں درمیانی شب سے تلاشی آپریشن جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق مشتبہ افراد کی نقل وحرکت کی اطلاع موصول ہونے کے بعد سیکورٹی فورسز نے ریاسی کے تلی چاسنا علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ذرائع نے بتایا کہ اتوار دیر شام سیکورٹی فورسز نے علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کیا جو پیر کی صبح بھی جاری تھا۔ذرائع کے مطابق سلامتی عملے نے ایک وسیع العریض علاقے کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔انہوں نے کہاکہ پولیس ، فوج اور سی آپی ایف کی جانب سے تلاشی آپریشن چلایا جارہا ہے تاکہ ملک دشمن عناصر کے منصوبوں کوناکام بنایاجاسکے۔واضح رہے کہ ملی ٹینٹ حملوں کے بعد جموں کے ریاسی ، راجوری اور پونچھ اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.