بلڈ پریشرکا علاج ۔۔۔۔

بلڈ پریشرکا علاج ۔۔۔۔

پوری دنیا میں بلڈ پریشر کا عالمی دن کل منایا گیا اور اس دن کی مناسبت سے مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں نے تقریبات کا اہتمام کیا ۔منعقدہ تقریبات کے دوران مقررین حضرات نے عام لوگوں کو بلڈ پریشر کے مضر اثرات اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے آگاہ کیا۔سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تیزی سے پھیل رہی ،اس بیماری سے پوری دنیا میں کروڑوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اس مہلک بیماری کی بنیادی وجہ ذہنی تناﺅ مانا جاتا ہے ۔
جہاں تک جموں کشمیر کا تعلق ہے اس بیماری کے شکار زیادہ تر لوگ وادی میں پائے جاتے ہیں ۔ماہرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں سے جاری جنگ و جدل اور پُر تشدد حالات نے یہاں کی دو تہائی آبادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے کیونکہ ان تیس برسوںمیں یہاں نہ صرف لوگوں نے قتل و غارتگری دیکھی ہے، بلکہ بے روز گاری ،افسر شاہی ،وی آئی پی کلچر اور سماجی مشکلات ہر طرف نظر آرہے ہیں ۔ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بغیرشادی کے عمر کی حد پار کرگئیں اور انکے یا تومالی حالات ٹھیک نہیں تھے یا پھر انہیں ایسی بری عادات نے گھیر لیا ہے کہ انہیں جیون ساتھی نہیں مل سکا۔وادی میں اس قدر بے روزگاری عام ہو گئی ہے کہ بیشترنوجوان شادی کرنے سے یہ سوچ کر گریزکر رہے ہیںکہ وہ خود کے لیے روزی روٹی نہیں کما سکتے ہیں ،تو شادی کے بعد اہل و عیال کی کفالت کیسے کریں گے ۔
یہ بات بھی مشاہدے میں آ رہی ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اب ڈرگ کی لت میں مبتلا ہو گئی ہیں۔سماج میں پھیلئے غلط رسم ورواج اور بدعات کی وجہ سے پڑھے لکھے اچھے گھرانوں کے بچے بھی ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں ،اس طرح بلڈ پریشر کی بیماری عام ہو گئی ۔یہاں ان باتوں سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں اس قدر ملاوٹ پائی جاتی ہے کہ ان کے استعمال کرنے سے عام لوگوں میں بیماریاں نمودار ہو گئیں۔اب جبکہ ماحول دھیرے دھیرے ساز گار ہوتا جارہا ہے اور انتظامیہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور روزگار کے لئے وسائل تلاش کرنے میں محو جدوجہد ہے ۔
دیکھنا یہ ہے کہ کیا بلڈ پریشر جیسی خطرناک اور مار خور بیماری میں کمی آسکتی ہے یا نہیں ۔جہاں تک سنجیدہ فکر لوگوں کا تعلق ہے وہ اس بیماری کے بڑھتے گراف کو سماج میں ہو رہی ناانصافی،وی آئی پی کلچر ،کنبہ پروری ،رشوت ستانی اور ظلم و زیادتی سے جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں جب تک زمینی سطح پر پوری طرح سے تبدیلی نہیں آئے گی اور عام لوگوں کوخوش و خرم زندگی میسر نہیں ہوتی، تب تک بلڈپریشر جیسی خطر ناک بیماری کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا سرکار اور انتظامی افسران کو اس حوالے سے سنجیدگی اور گہرائی سے سوچنا چاہیے اور ایسے اقدامات اُٹھانے چاہیے جس سے لوگوں کو خوشحالی فرہم ہوسکے،یہی اس بیماری کا اعلاج ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.