کشمیر بیٹ منی فیکچررز کی حکومت سے وسیع پیمانے پر بید شجر کاری مہم چلانے کی درخواست

کشمیر بیٹ منی فیکچررز کی حکومت سے وسیع پیمانے پر بید شجر کاری مہم چلانے کی درخواست
سری نگر: وادی کشمیر کے کرکٹ بلے تیار کرنے والے کار خانہ داروں نے حکومت سے اس صنعت کے تحفظ کو یقینی کے لئے وسیع پیمانے پر بید کے پودے لگانے کے لئے ایک ہمہ گیر مہم شروع کرنے کی درخواست کی ہے۔جموں وکشمیر حکومت کے نام مذکورہ کارخانہ داروں کا یہ ایس او ایس ایک ایسے وقت لکھا گیا ہے جب ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈ نزدیک آ رہا ہے۔
بتادیں کہ گذشتہ کئی برسوں کے دوران بین الاقوامی سطح پر کھیلے جانے والے ان ایونٹز میں کشمیر میں تیار ہونے والے بلوں کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف ممالک کے کھلاڑی کشمیر کے بلوں کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کرنے لگے ہیں۔
کارخانہ داروں کا کہنا ہے: ‘ہم گذشتہ کچھ برسوں سے خام مواد کی سپلائی کی قلت سے دوچار ہیں اور ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں یہ مسئلہ ہمیں کارخانے بند ہونے کا باعث نہ بن سکے’۔
انہوں نے کہا کہ یہ صنعت قریب ڈیڑھ لاکھ مزدورں کو روز گار فراہم کرتی ہے جن میں سے 70 فیصد مزدورں کا تعلق میرٹھ اتر پردیش اور پنجاب سے ہے جبکہ صرف 30 فیصد مزدوروں کا تعلق کشمیر سے ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس صنعت سے زائد از 3 سو کروڑ روپیوں کی آمدنی ہوتی ہے۔
منی فیکچررز کا ایس او ایس میں کہنا ہے: ‘ہمارے پاس قریب 9 ہزار 1 سو 50 ہیکٹر ویٹ لینڈ دستیاب ہے جس پر بید کے درخت لگائے جا سکتے ہیں کیونکہ بید کے بغیر کوئی بھی درخت گیلی زمین پر نہیں اگایا جا سکتا ہے’۔ان کا کہنا ہے: ‘اگر کینیڈا اور پاکستان کی طرح کشمیر میں بھی بڑے پیمانے پر بید شجر کاری مہم شروع کی جائے گی تو جموں وکشمیر بیٹ انڈسٹری کے لئے خام مواد کے ذخائر میں خود کفیل ہوجائے گا اور اس سے یہ صنعت صدیوں تک زندہ رہ سکتی ہے’۔
ایس او ایس میں کہا گیا کہ ہندوستان، جس نے سال 2070 تک کاربن نیوٹرل ہونے کا عزم کیا ہے ، کشمیر میں پائیدار بید شجرکاری مہم کے ذریعیے بھی اس منزل کو حاصل کر سکتا ہے اور اس سے کشمیر میں زائد از ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی روزی روٹی کی حفاظت بھی ممکن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ویٹ لینڈس میں بید کے درخت لگانے سے سالانہ 350 کروڑ روپیوں سے زیادہ کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت جموں وکشمیر مقامی صنعت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کشمیر بید کو ‘جی آئی ٹیگ’ دینے پر زور دے رہی ہے۔
منی فیکچررز نے کہا کہ ولو – پروہبیشن آن ایکسپورٹ اینڈ موومنٹ ایکٹ سال 2000 کا قانون بر قرار ہے اور اس صنعت کو تحفظ فراہم کر رہا ہے اور یہ ان قوانین میں شامل ہے جو دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد اختیار کئے گئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ جنوبی کشمیر میں زائد از 3 سو بیٹ منی فیکچرنگ یونٹ قائم ہیں جن کو 70 فیصد خام مواد ضلع گاندربل اور ضلع بانڈی پورہ کا وولر علاقہ فراہم کرتا ہے جبکہ صرف 30 سے 35 فیصد مواد جنوبی کشمیر سے آتا ہے۔ان کارخانوں میں سالانہ قریب 4 ملین کرکٹ بیٹ تیار ہوتے ہیں جن کو انگلینڈ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور متحدہ عرب امارات کو سپلائی کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.