عوام کیساتھ تال میل لازمی۔۔۔۔۔

عوام کیساتھ تال میل لازمی۔۔۔۔۔

جموں کشمیر پولیس کے نو منتخب سربراہ آرآسوین نے گزشتہ روز اپنے عہدے کا چارج سنبھالا اور سبکدوش پولیس سربراہ دل باغ سنگھ نے انہیں اس موقعے پر مبارک باد پیش کی۔نئے پولیس سربراہ اگرچہ وادی میں کئی برسوں سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے وہ پولیس سی آئی ڈی ونگ کے سربراہ کے عہدے پر بھی فائز رہے اور اسطرح انہیں یہاں کی زمینی صورتحال سے متعلق تمام جانکاری بھی حاصل ہے۔

تاہم گزشتہ چند روز سے جس طرح ٹارگیٹ کلنگ کا جو سلسلہ شروع ہوا جس دوران دو پولیس افسران سمیت ایک بیرونی مزدور کو مارا گیا، جواس بات کا عندیہ ہے کہ یہاں پوری طرح یہاں ملی ٹنسی کا خاتمہ نہیں ہو ا ہے، جیسا کہ سابق پولیس سربراہ دعویٰ کرتے آئے ہیں۔جموں کشمیر ایک ایسا سرحدی علاقہ ہے جس کی زیادہ طرح سرحد ہمسایہ ملک پاکستان سے ملتی ہے جس ملک کے اندرونی حالات کسی بھی صورت میں بہتر نہیں ہیں، وہ ہمیشہ اپنی اندرونی کمزوریاں چھپانے کے لئے اپنے عوام کی توجہ دیگر معاملات کی جانب مبذول کرانے کی فکرمیں رہتا ہے ۔

اس بات کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دنوں کے دوران سرحدی علاقوں میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں بھی ہوئی ہیں، جس دوران فائرنگ کے تبادلے میں کئی درانداز مارے گئے۔جہاں تک وادی کے لوگوں کا تعلق ہے ،وہ امن اور تعمیر و ترقی کو پہلی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بہت کچھ دیکھا اور سہا ہے ۔

لہٰذا وہ مزید خون خرابہ اور تشدد نہیں دیکھنا چاہتے ہیں ۔پولیس سربراہ نے اگر چہ نیا عہدہ سنبھالتے ہی سیکورٹی منظر نامے سے متعلق میٹنگ طلب کی جس دوران امن و سلامتی کے بارے میں سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے اُٹھائے جارہے اقدامات کے بارے میں تفصیل سے گفت و شنید ہوئی۔آر آرسوین کا جہاں تک تعلق ہے، انہوں نے ملک اور بیرون ملک میںکام کر کے ایک بہت بڑا تجربہ حاصل کیا ہے اور اسطرح اُن کا تجربہ زمینی سطح پر کام آسکتا ہے ۔

پولیس اور عوام کے درمیان تال میل بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ بالآخر عوام ہی طاقت کا سر چشمہ ہے۔عوامی سپورٹ (تعاﺅن )کے بغیر کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے اور ناہی یہ آسان ہوتا ہے۔ویسے بھی جموں کشمیر پولیس میں اب اچھے قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ جوان اور افسران بھرتی ہورہے ہیں جنکی وجہ سے اس فورس کے نظم وضبط میں مزید بہتری آئی ہے۔

پولیس محکمہ ایک ایسا محکمہ ہے، جو سماج کے ہر معاملے میں براہ راست ملوث ہے ،لہٰذا جتنی اس محکمے میں شفافیت اور ایمانداری ہوگی ،اتنی ہی بہتر ڈھنگ سے عوام کی خدمت ہو سکتی ہے اور عوامی مسائل کا حل بہتر طریقے سے نکل آ سکتا ہے جو کہ امن اور تعمیر ترقی کے لئے لازمی ہے۔پولیسنگ کو بہتر کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔اُمید کی جاسکتی ہے کہ نئے پولیس سربرراہ اپنی صلاحیتوں اور تجربات کو بروئے کار لاکر اس اہم فورس میں مزید بہتری لانے میں کامیاب ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.