فن اور فنکار ۔۔۔۔۔

فن اور فنکار ۔۔۔۔۔

پوری دنیا میں فنکاروں کا عالمی دن منایا گیا اور اس حوالے سے مختلف تقریبات کا اہتمام ہوا،جن میں فن اور فنکاروں سے متعلق باتیں ہوئیں۔جہاں تک ہمارے ملک کا تعلق ہے اس کثیر تعداد والے ملک میںہز اروں کی تعداد میں ایسے فنکار ہیں، جنہوں نے اپنے اپنے فن میں سخت غربت اور افلاس کے باوجود اپنے فن کو اُس منزل اور مقام تک پہنچایا جہاں انہیں عوام ہرگزبھول نہیں سکتے بلکہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ملک کے مشہور و معروف گلوکار محمد رفیع جو ایک زمانے میں اپنے بھائی کے ساتھ نائی کی دکان پر لوگوں کے بال تراشتے تھے ،نے ہندوستانی گیت و سنگیت میں ایک ایسا نام کمایا کہ مرنے کے بعد بھی ملک کا ہر فرد اُن کی آواز سن کر محظوظ ہو جاتا ہے۔

اسی طرح فلمی دنیا کے اداکار محمود اور سید بدرالدین جنہیں لوگ ’جانی واکر‘ کے نام سے جانتے ہیں، نے اپنی اداکاری سے لوگوں کو ہنسایا اور رلایا ہے۔کسی بھی اداکار یا فنکار کو تب تک اپنے فنی صلاحتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع نہیں مل سکتاہے ،جب تک نہ کوئی اچھا اُستاد ہاتھ پکڑ کر اُن کے اند ر پوشیدہ صلاحیت کو باہر نہیں نکالے گا۔ملک کے ان اعظیم اداکاروں ،فنکاروں کو وقت کے اُساتذہ نے سیکھنے اور سنورنے کا موقع دیا۔تب جا کر انہوں نے نام کمایا ہے اورآج اُن کی فنی صلاحیتوں پر ملک کے عوام فخر کرتے ہیں۔جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے یہاں بھی بہت سارے لوگوں نے اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے لیکن اُس وقت کے اساتذہ نے انہیں نہ صرف ہاتھ پکڑ کر سکھایا ہے بلکہ ریڈیو،ٹیلی ویژن اور جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمیجیسے اداروں کی صورت میں انہیں بہترین پلیٹ فارم میسر ہوا۔آج جب کہ یہ ادارے جدید سہولیات سے لیس ہیں، لیکن یہاں ایسے لوگ موجود نہیں ہیں جوایسے اداکاروں اور فن کاروں کی فنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔

آج کے دورمیں ان اداروں میں ایسے استاد اور قابل لوگ دستیاب نہیں ہیں بلکہ زیادہ تر لوگ تین دہایﺅں کے دوران حادثاتی طور کرسیوں پر برا جماں ہوئے ہیں ۔اگر ہم اپنی وادی میں موجود نئے نوجوان فنکاروں ،اداکاروں اور دیگر منسلک افرد کی بہتر ڈھنگ سے راہنمائی اور رہبری کریں توہمارے فنکار بھی اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا پوری دنیا میں منواسکتے ہیں، جیسا کہ کھیلوں کے شعبے سے وابستہ نوجوان لڑکوںاورلڑکیوں نے ملک اور اپنی سرزمین کانام روشن کیا ۔لہٰذا فنکاروں سے متعلق ہمارے ذمہ داراداروں سے منسلک افرد کو اس حوالے سے سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے تاکہ ہمارے فنکاروں کی فنی صلاحیتیں پوری دنیا میں روشن ہو سکیں ،فنکاروں کا عالمی دن منانے کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ فن اور فنکاروں کی ترقی اور تعمیر کے لئے منصوبے عملائے جائیں جو فی الحال ہماری وادی میں کمزور نظر آرہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.