شوکت ساحل
سرینگر:تاریخ پر نظر ڈالیں تو جموں وکشمیر میں خواتین کے ذریعے کئی کامیاب ترین کاروبار شروع ہوئے ہیں۔ اچار،مصالحے ، موم بتیاں ، سلائی کڑھائی، ، کرافٹ وغیرہ کو تیار کرکے بیچنے کا رواج بہت قدیم زمانے سے چلتا آرہاہے۔عصر حاضر میں کشمیرکی بیشترکاروباری خواتین خود کو رول ماڈل اور مشہور شخصیات کے طور پر اپنی شناخت قائم کرنے میں آگے بڑھ رہی ہیں اور نئی نئی تاریخیں رقم کررہی ہیں۔

کشمیری خواتین آج کاروبار کے میدان میں بہت آگے ہیں اور وقت کے ساتھ تبدیلی میں ان کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے جبکہ خواتین کے ذریعے تجارتی مہم کو اپنانے کا رجحان بہت ہی خاموشی سے بڑھتا جارہاہے۔تمام لوگ یہی سوچتے ہیں کہ اسٹاراپ کی دنیا میں داخل ہونا کافی مشکل کام ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کشمیر میں کئی خواتین ایسی ہیں، جنہوں نے گھر کی چار دیواری میں رہ کر ہی اسٹارٹ اپ کی مثال قائم کی ہے۔

اگر یوں کہے کہ کشمیر میں جہاں موجودہ دور میں لڑکیاں، لڑکوں کے مقابلے ہر میدان میں سبقت حاصل کررہی ہیں وہیں پکوان بنانے میں بھی وادی کی خواتین کسی سے کم نہیں ہیں اور وہ اپنے ہنر سے خود روزگار کے نئے وسائل پیدا کر کے ایک نئی راہ دکھا رہی ہے۔
جموں وکشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے نوشہرہ علاقے سے رکھنے والی ’نوا ‘ پڑھی لکھی لڑکیوںاور شادی شدہ خواتین کے لئے مشعل ِ راہ ہیں ۔کشمیر یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرنے والی’نوا‘ شادی کے بعد سسرال میں اچار اور جیم کا خود کا کاروبار کرتی ہیں، وہ کئی اقسام کے اچار تیار کر فروخت کرتی ہیں۔

نوا سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنے اچار اور جیم کو فروخت کرتی ہیں۔ متعدد اقسام کے اچار بنانے والی کشمیری خاتون نوا شادی شدہ خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہیں، جو شادی کے بعد اپنا کاروبار شروع کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ نوا تقریباً 20 اقسام کے اچار تیار کرتی ہیں اور اسے سوشل میڈیا پر مارکیٹنگ کے ذریعے فروخت کرتی ہیں۔ اچاروں کے اقسام میں کھجور اور چکندر کا اچار قابل ذکر ہیں۔

نوا اپنے کاروباری کے بارے میں بتاتی ہیں کہ اُنہیں یہ اسٹارٹ اپ شروع کرنے میں میکے اور سسرال دونوں کی طرف سے بھر پور تعاﺅن ملا اور شوہر نے کاروبارکو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا ۔ان کا کہناتھا ’ کُکنگ میرا پسندیدہ مشغلہ ہے اور میں نے اسی مشغلہ کو کاروبار میں تبدیل کرنے کا فیصلہ لیا ،جو کامیاب رہا ‘۔نوا (Jamkle jar’s) کے نام اپنا کاروبار کررہی ہیں ۔






