شوپیاں میں اپنی نوعیت کے منفرد کلاک ٹاور کی تعمیر مکمل

شوپیاں میں اپنی نوعیت کے منفرد کلاک ٹاور کی تعمیر مکمل

سری نگر، 11 اگست: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے گول چوک میں کلاک ٹاور کی تعمیر لگ بھگ مکمل ہو چکی ہے۔
یہ کلاک ٹاور جہاں طرز تعمیر کے لحاظ سے اپنی نوعیت کے منفرد ٹاور ہے وہیں یہ لوگوں کو صرف وقت ہی نہیں بلکہ کئی دوسری اہم معلومات بھی فراہم کرے گا۔
اسٹننٹ ایگزیکیٹوانجینئر آر اینڈ بی نیاز احمد ملک نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ اس ٹاور کی تعمیر کا نناوے فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ٹاور کا باقی مانندہ کام ایک ہفتے کے اندر اندر مکمل کیا جائے گا۔
میونسپل کونسل شوپیاں کے ذریعے تعمیر ہونے والے اس 52 فٹ اونچے ٹاور کا ڈیزائن رفیع ثاقب آرکیٹکٹس نے تیار کیا ہے اور اس کی تعمیر محکمہ آر اینڈ بی کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔گول چوک، جس کو ایک تاریخی حیثیت حاصل ہے اور جو لوگوں کی آمد ورفت کا خاص مرکز ہے، میں تعمیر ہونے والا یہ ٹاور اپنی ساخت کے لحاظ سے جموں و کشمیر کا پہلا سہ کونی ٹاور ہے۔اس ٹاور کی اونچائی 52 فٹ ہے یہاں اتنی اونچائی کسی دوسرے ٹاور کی نہیں ہے اور اس کا ڈیزائن بھی منفرد ہے۔
متعلقہ حکام کے مطابق اس ٹاور میں کلاک کے علاوہ ایک بائیو میٹرکس بورڈ بھی نصب ہوگا جو ایک نوٹس بورڈ کا کام کرے گا اور مختلف محکمے اس پر ہی نوٹسز ڈالیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹاور درجہ حرارت، موسمی معلومات اور فضائی آلودگی کے متعلق بھی معلومات فراہم کرے گا۔
رفیع ثاقب آرکیٹکٹس نامی فرم کے مالک نجم الثاقب نے یو این آئی کو بتایا کہ اس کلاک ٹاور کا ڈیزائن اپنی نوعیت کا منفرد ڈزائن ہے جو روایتی سے زیادہ جدید بنیادوں پر استوار ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ جموں وکشمیر کا پہلا سہ کونی ٹاور ہے جس کا ہر چہرہ ایک راستے کے روبرو ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ٹاور کا تعمیری کام مکمل کیا ہے اور اس کو متعلقہ حکام کے سپرد کیا ہے۔
موصوف نے کہا کہ اس ٹاور میں وقت بتانے کے لئے صرف کلاک نہیں لگے گا بلکہ اس میں پولیوشن میٹر اور سرویلنس کیمرے بھی نصب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ضلع میں ایک مثالی تعمیر ہوگی جس سے اس جگہ کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اس تعمیر کو ریکارڈ وقت میں مکمل کیا گیا۔
نجم الثاقب کا مزید کہنا تھا کہ اس ٹاور کے کلاک کو چالو بھی کیا گیا ہے۔میونسپل کونسل شوپیاں کے مطابق یہ ٹاور مانیٹرنگ کے علاوہ لوگوں کو موسم اور فضائی آلودگی کے بارے میں بھی جانکاری فراہم کرے گا۔

یو این آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.