بدھ, اکتوبر 14, 2026
21.4 C
Srinagar

تھوک مہنگائی ستمبر میں 11.39 فیصد کے ریکارڈ سطح پر

نئی دہلی: تیار شدہ اشیاء، ایندھن اور اشیائے خور و نوش کی تھوک قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے گزشتہ ستمبر میں تھوک قیمتوں پر مبنی افراطِ زر کی شرح 11.39 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔
سال 2022-23 کے بنیادی سال کی نئی سیریز میں تھوک مہنگائی پہلی بار دہائی کے ہندسے میں پہنچی ہے۔ اس سے پہلے اگست 2026 میں یہ 9.92 فیصد اور ستمبر 2025 میں منفی 0.2 فیصد تھی۔ مرکزی وزارتِ تجارت و صنعت نے بدھ کے روز بتایا کہ ستمبر میں غذائی اشیاء کی تھوک مہنگائی 8.66 فیصد رہی۔
بنیادی اشیاء کے زمرے میں مہنگائی کی شرح 8.67 فیصد، ایندھن اور بجلی کے زمرے میں 25.85 فیصد اور مینوفیکچرڈ پروڈکٹس کے زمرے میں 9.76 فیصد رہی۔ بنیادی اشیاء کے زمرے میں کھانے پینے کی چیزوں کی مہنگائی 8.14 فیصد، غیر غذائی مصنوعات کی 10.28 فیصد اور معدنیات کی 9.51 فیصد درج کی گئی۔

ایندھن اور بجلی کے زمرے میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں سب سے تیز اچھال درج کیا گیا۔ مہنگائی کی شرح 57.32 فیصد رہی۔ معدنی تیلوں کی مہنگائی کی شرح 40 فیصد اور کوئلہ نیز لگنائٹ کی 9.31 فیصد پر رہی۔ جبکہ بجلی کی قیمت میں 0.43 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔

تیار شدہ مصنوعات میں سالانہ بنیادوں پر عام دھاتی مصنوعات 16.96 فیصد، کیمیکلز اور کیمیائی مصنوعات 16.74 فیصد، کپڑے 13.85 فیصد، ربر اور پلاسٹک کی مصنوعات 13.47 فیصد، تمباکو کی مصنوعات 12.90 فیصد اور برقی آلات 11.93 فیصد مہنگے ہوئے ہیں۔

موجودہ مالی سال 2026-27 کی پہلی چھ ماہی یعنی اپریل تا ستمبر 2026 کے دوران اوسط تھوک افراطِ زر کی شرح 9.85 فیصد رہی۔ اس میں ایندھن اور بجلی کے زمرے کی مہنگائی 25.31 فیصد، بنیادی اشیاء کی 6.89 فیصد اور تیار شدہ مصنوعات کی 8.08 فیصد رہی ہے۔

یواین آئی

Popular Categories

spot_imgspot_img