نئی دہلی،: چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے اور الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جنتر منتر پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں شامل ہونے جا رہے مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی-ایم) کے سرکردہ رہنماؤں سمیت کئی رہنماؤں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔
حراست میں لیے جانے والے رہنماؤں میں سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی، کیرالہ کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور کیرالہ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف پنارائی وجین، کیرالہ کے سابق وزیرِخزانہ کے این بال گوپال، راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس، مانیکندن وی گوندن، محترمہ ورندا کرات، کے کے شیلجہ اور پی راجیو شامل ہیں۔ اس کی اطلاع سی پی آئی (ایم) کے فیس بک پیج اور مسٹر وجین کے ‘ایکس’ پیج پر دی گئی ہے۔
محترمہ کرات نے فیس بک پیج پر لکھا، "مودی اور ان کی حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہندوستان کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور وہ انہیں روک نہیں سکتے۔ دہلی کا دل اس کے تمام لوگوں کا ہے۔ یہ دبانے والے طریقے ہمیں نہیں روک پائیں گے! چلو جنتر منتر کی طرف!”
کیرالہ بھون سے باہر نکلتے ہی پولیس نے بائیں بازو کے رہنماؤں کو جنتر منتر کی طرف مارچ کرنے سے روک دیا اور انہیں حراست میں لے لیا۔ شروع میں پولیس نے مسٹر وجین، مسٹر برٹاس اور مسٹر کے این بال گوپال کو چھوڑ کر دیگر رہنماؤں کو حراست میں لیا تھا، لیکن جب یہ تینوں رہنما جنتر منتر کی طرف بڑھنے لگے تو پولیس کے ساتھ ان کی تلخ بحث ہوئی اور پولیس نے انہیں بھی حراست میں لے لیا۔
حراست میں لیے جانے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسٹر وجین نے اس کارروائی کو ‘جمہوریت کا قتل’ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں سے ان کی حکومت منتخب کرنے کا حق چھینا جا رہا ہے اور 13 کروڑ سے زیادہ ووٹرز کے نام کاٹے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کام چیف الیکشن کمشنر نے حکومت کے اشارے پر کیا ہے اور حکومت اب انہیں بچانے کے لیے غیر قانونی طریقے اپنا رہی ہے، لیکن یہ احتجاج آج ختم نہیں ہوگا۔
مسٹر وجین نے کہا کہ ہندوستان ملک کوئی پولیس اسٹیٹ نہیں بلکہ ایک جمہوری ملک ہے اور برسرِ اقتدار جماعت کے دل میں جمہوریت کے تئیں کوئی احترام نہ ہونے کی وجہ سے ایسی کارروائی کی جارہی ہے۔ وہیں، رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔
قابلِ ذکر ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کے حق میں جنتر منتر پر ہونے والے اس مظاہرے کے پیشِ نظر پوری دہلی میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دہلی کی تمام سرحدیں سیل کر دی گئی ہیں اور سکیورٹی کے پیشِ نظر نیم فوجی دستوں کی 221 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 57 میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں نیز جنتر منتر کو قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ دہلی کے الگ الگ حصوں سے مظاہرے کے لیے پہنچنے والے لوگوں کو پولیس مسلسل حراست میں لے رہی ہے۔
یواین آئی





