جمعرات, اپریل ۲, ۲۰۲۶
15.7 C
Srinagar

نائب وزیر اعلیٰ کا این ایچ پی سی سے بجلی منصوبوں کی واپسی کا مطالبہ،پی ڈی پی نئے منصوبے این ایچ پی پی سی کو دینے پر بر ہم

جموں، 2 اپریل: جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے جمعرات کے روز این ایچ پی سی لمیٹڈ سے پن بجلی منصوبوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی آبی وسائل پر اختیار یونین ٹیریٹری کے عوام کے پاس ہونا چاہیے۔

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے سریندر چودھری نے کہا کہ جموں و کشمیر میں وافر پن بجلی صلاحیت ہونے کے باوجود خطہ آج بھی بجلی خرید کر مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، “آبی وسائل ہمارے ہیں، سب کچھ ہمارا ہے، اس کے باوجود ہمیں بجلی خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے”، اور مقامی منصوبوں پر زیادہ کنٹرول کی ضرورت پر زور دیا۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں و کشمیر میں پن بجلی اثاثوں کی ملکیت اور فوائد کے حوالے سے سیاسی بحث شدت اختیار کر رہی ہے، خاص طور پر جب نئے منصوبے مرکزی ایجنسیوں کے تحت تیار کیے جا رہے ہیں۔

چودھری نے کہا کہ اگرچہ عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ جموں و کشمیر کو بجلی پیداوار میں خود کفیل ہونا چاہیے، تاہم موجودہ نظام اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، “ہر کوئی کہتا ہے کہ جموں و کشمیر کو خود کفیل ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے اپنے منصوبوں کے باوجود ہمیں اب بھی بجلی خریدنی پڑ رہی ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ ہم بجلی خریدنے پر کتنا خرچ کرتے ہیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔”

ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے اس سے قبل حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دو پن بجلی منصوبے این ایچ پی سی لمیٹڈ کے حوالے کرنے پر سوال اٹھایا تھا۔

وحید رحمان پرہ کے مطابق 240 میگاواٹ اوڑی-اول مرحلہ دوم اور 260 میگاواٹ ڈولہستی مرحلہ دوم منصوبے، جن کی مجموعی صلاحیت 500 میگاواٹ ہے، این ایچ پی سی کو منتقل کیے گئے ہیں، جس سے مقامی فوائد محدود ہونے اور طویل مدتی کنٹرول سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے بجلی کی تقسیم کے طریقہ کار اور جموں و کشمیر کی توانائی خود مختاری پر اس کے وسیع اثرات پر بھی سوال اٹھایا تھا۔ [کے این ٹی]

Popular Categories

spot_imgspot_img