کشمیر کی سرزمین ہمیشہ سے ذہانت، تخلیقی صلاحیتوں اور محنت کے جذبے سے مالا مال رہی ہے۔ یہاں کے نوجوان اپنی قابلیت سے دنیا بھر میں اپنی شناخت بنا چکے ہیں۔ چاہے وہ تعلیم ہو، سائنس و ٹیکنالوجی، فنون لطیفہ یا کھیل کا میدان، کشمیری نوجوانوں نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔کشمیری نوجوان تخلیقی سوچ کے حامل ہیں۔ چیلنجز کا سامنا کرنا اور مسائل کا حل تلاش کرنا ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کشمیری طلبہ اور محققین اپنی تحقیقی کاوشوں سے نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ مختلف عالمی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ اپنی غیر معمولی تعلیمی کارکردگی سے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔
کشمیری نوجوانوں کی محنت اور لگن کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وسائل کی کمی کے باوجود وہ اپنی قابلیت کو منواتے ہیں۔ وہ ہر موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ چاہے وہ ٹیکنالوجی کے میدان میں اسٹارٹ اپس کا قیام ہو یا فنون لطیفہ میں نئی جہتیں متعارف کروانا، کشمیری نوجوان ہر شعبے میں اپنی محنت سے کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔تاہم، ان صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت، نجی ادارے، اور سماجی تنظیمیں مل کر ایسے پلیٹ فارمز مہیا کر سکتے ہیں جہاں نوجوان اپنی تخلیقی سوچ اور جدت کو عملی شکل دے سکیں۔ کشمیری نوجوانوں کے لیے انٹرنشپ پروگرامز، ٹیک ہبز، آرٹ گیلریز، اسپورٹس کمپلیکسز اور اسٹارٹ اپ انکیوبیٹرز کا قیام بے حد ضروری ہے۔کشمیری نوجوانوں کی صلاحیتوں کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا گیا ہے۔ سائنسی تحقیقات، ادبی کاوشیں، اور فنی تخلیقات کے ذریعے انہوں نے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ کسی سے کم نہیں۔ کئی کشمیری نوجوانوں کو بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے اور انہوں نے اپنے ہنر سے کشمیری ثقافت کا نام روشن کیا ہے۔
موجودہ حالات میں، جموں و کشمیر کی حکومت، جس کی قیادت عمر عبداللہ کر رہے ہیں، پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی توجہ نوجوانوں کی ترقی، خوشحالی، فلاح و بہبود اور روزگار کے وسائل پیدا کرنے پر مرکوز کرے۔ تعلیمی مواقع، ہنر مندی کی تربیت، اور کاروباری سہولیات کی فراہمی کے ذریعے نوجوانوں کو خودمختار بنایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ نوجوان ہی قوم و ملک کا مستقبل ہیں، اور ان کی ترقی خطے کی مجموعی ترقی کا ضامن بن سکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ہونہار نوجوانوں کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جو انہیں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع دیں۔ سرمایہ کاری، تربیت، اور رہنمائی کے ذریعے ان نوجوانوں کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ کشمیر کے یہ چراغ نہ صرف خطے کا فخر ہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی امید کی کرن بن سکتے ہیں۔
