بجلی کی عدم دستیابی۔۔۔

بجلی کی عدم دستیابی۔۔۔

وادی کشمیر میں موسم سرما شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہو جاتی ہے اور عام لوگوںکو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کپکپاتی سردی میں بچوں ،بزرگوں،مریضوں اور تاجروں کے لئے مسلسل بجلی کا ہونا بے حد لازمی ہے ۔بجلی کی کمی کا ایک سبب جہاں سردیوں میں پانی کی سطح کم ہونا ہے، وہیں یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سردی کے ایام کے دوران صارفین بے تحاشا بجلی کا غلط استعمال کر تے ہیں۔ہیٹر،بوئلر،گیزراور الیکٹرانک کمبلوں کا استعمال عام ہوتا ہے۔عام لوگ حد سے زیادہ بجلی کا استعمال کر کے اس کی بچت کے لئے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں،جہاں تک بجلی محکمے کا تعلق ہے، اس کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ سالانہ بنیادوں پرترسیلی لائینوں کی مرمت نہیں کر پاتا ہے اور خراب ٹرانسفارمروں کی مرمت بھی وقت پر نہیں کرتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس محکمے میں زیادہ تر ملازم ڈیلی ویج (یومیہ اجرت )بنیادوں پر کام کرتے ہیں اور اس وجہ سے وہ دلچسپی کے ساتھ کام نہیں کرتے ہیں۔ پہلے ایام میں ہر علاقے میں تعینات ملازمین ٹرانفارمروں ،ترسیلی لائینوں اور کھمبوں کی نگرانی کرتے تھے اور اپنے اپنے علاقوں میں گشت کرتے تھے اور دیکھتے تھے کہیں پر خرابی تو نہیں ہے، اس کے برعکس آج کے ملازمین اُس وقت ڈھونڈنے پڑتے ہیں جب کوئی لائین کٹ جاتی ہے یا محلے میں لگے ٹرانسفارمر میںخرابی آجاتی ہے۔

جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے وہ بھی کم فیس کے عوض بہت زیادہ بجلی کا استعمال کرتے ہیں۔جہاں تک میٹر والے علاقوں کا تعلق ہے ،وہاں لوگ رات کی تاریخی کے دوران ہوکنگ کرتے ہیں اور اس طرح بجلی چوری بھی بجلی کی کمی کا ایک اہم وجہ مانی جاتی ہے۔انتظامیہ نے جو روزانہ شیڈول جاری کیا ہے اُس پر بھی محکمہ بجلی پورا کھرا نہیں اُتر پاتاہے۔یہاں یہ بات بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ انتظامیہ جموں کشمیر سے پیدا ہو رہی بجلی یہ کہہ کر جموں کشمیر سے باہر ملک کے دیگر حصوں کو فراہم کررہی ہے کہ بجلی گھر بناتے وقت جو قرضہ مختلف کمپنیوں نے دیا ہوتا ہے، اُس کو واپس کرنا پڑتا ہے۔گزشتہ 7دہایﺅں کے دوران بھی جموں کشمیر کی سرکاریں ان قرضوں کو پوری طرح ادا نہیں کر پائیں، آخر اس قرضے کی بھر پائی کب تک مکمل ہوگی؟۔عوامی حلقوں میں یہ ایک بہت بڑ اسوال اُبھر کر سامنے آرہا ہے۔

اگر جموں کشمیر انتظامیہ کو ان باتوں کا بخوبی علم ہے کہ جموں کشمیر میں بجلی پیدا کرنے کے بہت سارے وسائل موجود ہیں، وہ اپنے خزانے سے نئے پاور پروجیکٹ کیوںنہیں تعمیر کر رہی ہے؟۔جہاں تک عام لوگوں کا سوال ہے انہیں بھی ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے کہ بجلی کا ایک یو نٹ تیار کرنے پرجو خرچہ آتا ہے ،اس کو مد نظر رکھتے ہوئے بجلی کا غلط استعمال نہ کیا جائے،صارفین بجلی چوری سے پرہیز کریں۔محکمہ بجلی کو بھی اپنے اُن ڈیلی ویجروں کو مستقل بنیادوں پرملازمت فراہم کرنی چا ہیے تاکہ وہ دلچسپی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکےں ،وہ اپنے اپنے علاقوں میں ترسیلی لائنوں کے ساتھ ساتھ ٹرانسفارمروں پر نظر گزر رکھیںتاکہ پوری طرح جلنے سے قبل ان لائینوں اورٹر انسفاروں کی مرمت ہو سکے تاکہ لوگوں کوزیادہ مشکلات کا سامنا نہ کر نا پڑے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.