خوراک کا عالمی دن

خوراک کا عالمی دن

دنیا بھر میں خوراک کا عالمی دن منایا گیا اور دنیا میں خوراک کی پیداوار میں اضافہ کو لیکر مختلف ماہرین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کے درجنوں ممالک میں خوراک کی کمی پائی جاتی ہے اور ان ممالک میں خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے روزانہ لاکھوں لوگ مر جاتے ہیں ۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ سائنسی ترقی کے سبب خوراک کی پیداوار میں روز بروز نمایاں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ مختلف قسم کی کیمیائی کھادیں اور ادویات کا استعمال ہو رہا ہے اور پُرانے ایام کی طرح اب ہمارے ملک میں دال چاول کے لئے لوگ ترس نہیں رہے ہیں بلکہ اب غریبوں کو مفت چاول بھی فراہم کیا جارہا ہے۔

حکومتی سطح پرزمینداروں کی فلاض وبہبود اور فصلوں کی بہتر پیداوار کے لئے مختلف اقسام کی اسکیمیں عملائی جارہی ہیں۔اشیایہ خوردنی کی پیداوار میں ملک بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور ملک کے کسان اب صرف اپنے ملک کے لوگوں کو ہی کھانے پینے کا سامان فراہم نہیں کرتے ہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی مختلف چیزیں درآمد کی جاتی ہے۔بھارت سالانہ لاکھوں کو ئنٹل چینی،چاول ،گیہوںاور دیگر پھل پھول مختلف ممالک میں بھیج دیتا ہے جو کہ ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔جہاں تک بھارت میں سفید اور سبز انقلاب کا تعلق ہے، اس کی شروعات بہت پہلے ہی ہو چکی ہے ۔

تاہم کیمیائی کھادوں اور دیگر ادویات کا جہاں تک تعلق ہے، یہ چیزیں انسانی صحت کے لئے ہرگز مفید نہیں ہیں بلکہ ان کی وجہ سے ملک میں مختلف بیماریوں میں اضافہ ہو ا ہے۔پہلے ایام میں گھریلوں کھادوں کا استعمال کیا جاتا تھا اور ان سے تیار ہورہی سبزی،چاول،گیہوں ،دالیں اور دیگر میوہ جات انسانی صحت کے لئے بھی مفید ثابت ہوتے تھے۔ملک کے سائنسدان اب کیمیائی کھادوں کی بجائے گھریلوں کھادوں کا استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور اس حوالے سے ملک کے کسانوں کو مختلف سیمیناروں اور کانفرنسوں کے ذریعے سے باخبر بھی کیا جارہا ہے۔یہاں یہ بات بھی مشاہدے میں آرہی ہے کہ مختلف کھانوں میں ذایقہ بڑھانے کی غرض سے مختلف قسم کے رنگ اور پوڈر ملائے جاتے ہیں جن سے مہلک امراض پھیل جاتے ہیں۔بچوں کو گھریلوں کھانوں کے بجائے فاسٹ فوڑ دیا جاتا ہے جنکی وجہ سے وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔دنیا میں پیداوار بڑھانے کے خلاف کوئی نہیں ہے لیکن اگر پیداور بڑھانے کے لئے قیمتی زندگیوں سے کھلواڑ کرنا پڑے یہ سراسر نادانی ہے۔

یہاں یہ بات بھی لازمی ہے کہ لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق پیداوار بڑھانے میں اچھا خاصہ رول ادا کرسکتے ہیں ،وہ زرعی زمین کو محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کرسکتے ہیں نہ کہ اس زمین پر مکانات اور تعمیرات کھڑا کر سکتے ہیں جیسا کہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ جب زرعی زمین ہوگی تب پیداوار بھی بڑھ سکتی ہے جب زمین ہی ختم ہوگی تو پیداوار کہاں سے ہوگی؟۔اس کے لئے ہر ملک کے حکمرانوں کو سخت قوانین بنانے چاہیے اور کھانے پینے کے سامان ایک دوسرے کو فراہم کرنے چاہیے اور مختلف اشیایہ ضروریہ کا تبادلہ کرنے کی غرض سے معاہدے آپس میں کرنے چا ہیے، تاکہ کسی بھی ملک میں خوراک کی کمی محسوس نہ ہو، یہی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے اور غرب وافلاس سے نمٹنے کا حل بھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.