جمعرات, اکتوبر 15, 2026
19.1 C
Srinagar

نیشنل کانفرنس حکومت کا پنجابی، گوجری اور پہاڑی زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ دینے کا فیصلہ

این سی رکن پارلیمنٹ شمی اوبرائے کا بیان، کہا: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے گا

سرینگر: نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے جموں و کشمیر اسمبلی کے 2027 کے بجٹ اجلاس میں پنجابی، گوجری اور پہاڑی زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ دینے کے لیے بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ شمی اوبرائے نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ پنجابی زبان کو سرکاری زبانوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

اوبرائے نے بتایا کہ حکومت نے پنجابی، گوجری اور پہاڑی زبانوں کو سرکاری زبانوں کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔بدھ کے روز شمی اوبرائے نے سکھ سنگت اور مختلف گوردوارہ پربندھک کمیٹیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی، جس کے دوران انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ پنجابی زبان کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کے سرکاری زبانوں سے متعلق قانون کے تحت سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر سرکاری زبانوں کا قانون 2020 منظور کیا تھا، جس کے تحت کشمیری، ڈوگری، اردو، ہندی اور انگریزی کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کی سرکاری زبانیں قرار دیا گیا تھا۔

اس قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کا منتظم گوجری، پنجابی اور پہاڑی زبانوں کے فروغ اور ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کرے گا۔ ان اقدامات میں اکیڈمی برائے فن، ثقافت اور زبانوں جیسے اداروں کے ذریعے ان زبانوں کی ترویج بھی شامل ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر تنظیمِ نو ایکٹ 2019 کے تحت مرکز کے زیر انتظام علاقے کی اسمبلی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قانون سازی کے ذریعے کسی بھی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے سکتی ہے۔

(کے این او)

Popular Categories

spot_imgspot_img